وفاقی حکومت نے نئی آٹو پالیسی متعارف کراتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا مقصد عام اور متوسط طبقے کے لیے گاڑیوں کو نسبتاً سستا بنانا، مقامی مینوفیکچرنگ بڑھانا، برآمدات کی حوصلہ افزائی کرنا اور الیکٹرک گاڑیوں کی منتقلی تیز کرنا ہے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے پالیسی کے اہم نکات بیان کیے۔

ہارون اختر کے مطابق پالیسی چھ بنیادی ستونوں پر قائم ہے: کم قیمت گاڑیاں، برآمدات، لوکلائزیشن، گاڑیوں کا تحفظ، الیکٹرک وہیکلز کا فروغ اور شفافیت۔ حکومت کا کہنا ہے کہ مکمل تیار شدہ گاڑیوں، اسمبلی پلانٹس اور پرزوں سے متعلق ڈیوٹیز میں مرحلہ وار تبدیلی کے ذریعے پانچ برس میں زیادہ مسابقتی ٹیرف نظام کی طرف بڑھا جائے گا۔ حکومتی مؤقف ہے کہ پیداواری لاگت میں کمی سے عام گاڑیوں کی قیمتوں پر بھی نیچے کی جانب دباؤ پڑے گا، تاہم اس کا عملی اثر مارکیٹ، درآمدی لاگت اور صنعت کے ردعمل پر منحصر ہوگا۔

پالیسی میں مقامی پیداوار کے اہداف کو لازمی بنانے اور برآمدی کارکردگی کے لیے انعام و جرمانہ نظام متعارف کرانے کا اعلان بھی کیا گیا۔ حکام کے مطابق برآمد کنندگان کے لیے مقامی ٹیکس اور لیویز پر ڈیوٹی ڈرا بیک کی سہولت اہداف سے منسلک ہوگی، جبکہ برآمدی اور مقامی مینوفیکچرنگ اہداف پورے نہ کرنے والی کمپنیوں کو مکمل مراعات نہیں ملیں گی۔

حفاظتی شعبے میں اقوام متحدہ کے WP.29 ضابطے سے ہم آہنگ مزید 45 معیار شامل کرنے کی بات کی گئی ہے۔ الیکٹرک گاڑیوں کے لیے حکومت نے مختلف سیلز ٹیکس شرحوں کی تجویز دی ہے: مکمل الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فیصد، رینج ایکسٹینڈڈ گاڑیوں پر چھ فیصد اور ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر نو فیصد۔ حکام نے واضح کیا کہ ان میں سے بعض اقدامات آئی ایم ایف کی منظوری سے مشروط ہیں۔

50 ہزار ڈالر تک قیمت والی الیکٹرک گاڑیوں کے لیے کیپیٹل ویلیو ٹیکس، ودہولڈنگ ٹیکس اور وفاقی ایکسائز ڈیوٹی نہ لگانے کی تجویز بھی پالیسی کا حصہ ہے۔ اس کے علاوہ اسٹیٹ بینک کے کار فنانسنگ فریم ورک کو الیکٹرک گاڑیوں کے لیے 30 لاکھ روپے سے بڑھا کر ایک کروڑ روپے اور مدت تین سے پانچ سال کرنے کی بات کی گئی ہے۔ چارجنگ اسٹیشن آلات پر سیلز ٹیکس ایک فیصد اور کسٹمز ڈیوٹی ختم کرنے کا اعلان بھی کیا گیا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد تیل کی درآمدی لاگت، اخراج اور شہریوں کے ٹرانسپورٹ اخراجات میں کمی کے ساتھ مقامی صنعت کو عالمی معیار اور برآمدی منڈیوں کے لیے تیار کرنا ہے۔