اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت اور دیگر متعلقہ حکام سے وفاقی دارالحکومت میں فائر سیفٹی قوانین کے بظاہر ناکافی نفاذ پر وضاحت اور تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ عدالت نے جاننا چاہا ہے کہ موجودہ قانونی ڈھانچے کے باوجود ایسی عمارتوں کو کام کرنے کی اجازت تو نہیں دی جا رہی جن کے پاس لازمی حفاظتی کلیئرنس یا فائر سیفٹی کا عدم اعتراض سرٹیفکیٹ موجود نہیں۔

چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے فریقین کو ہدایت کی کہ وہ دو ہفتوں میں پیرا وار جواب، متعلقہ ریکارڈ اور اب تک کیے گئے اقدامات کی تفصیل جمع کرائیں۔ درخواست میں اسلام آباد کی تمام عمارتوں کا جامع فائر سیفٹی آڈٹ کرانے، قواعد کی خلاف ورزی کرنے والی عمارتوں کی نشاندہی عوام کے سامنے لانے اور مطلوبہ این او سی کے بغیر چلنے والے خطرناک مقامات کو تعمیل تک سیل کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔ مقدمے کی آئندہ سماعت 24 ستمبر کو مقرر کی گئی ہے۔

یہ کارروائی 26 اگست کو پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، پمز، میں لگنے والی آگ کے بعد سامنے آئی ہے، جس میں متعدد نومولود بچوں کی جان گئی تھی۔ درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ اس سانحے نے وفاقی دارالحکومت میں عمارتوں کی نگرانی، ہنگامی اخراج، آگ بجھانے کے آلات اور لازمی حفاظتی سرٹیفکیٹس کے نفاذ میں کمزوریاں نمایاں کیں۔ یہ نکات درخواست میں اٹھائے گئے الزامات اور سوالات ہیں؛ عدالت نے ابھی غفلت یا قانونی ذمہ داری کا حتمی تعین نہیں کیا۔

اسلام آباد فائر پریوینشن اینڈ لائف سیفٹی ریگولیشنز 2010 متعلقہ اداروں کو عمارتوں کے معائنے، خامیوں کی نشاندہی، اصلاحی اقدامات کے احکامات اور خطرناک جگہوں کے خلاف کارروائی کے اختیارات دیتے ہیں۔ قواعد کے تحت شدید خطرے کی صورت میں عمارت خالی کرانے، پولیس کی مدد سے مکینوں کو نکالنے اور مجسٹریٹ کی موجودگی میں عمارت سیل کرنے کی گنجائش بھی موجود ہے۔ عدالتی کارروائی کا بنیادی سوال یہی ہے کہ ان اختیارات کو عملی طور پر کس حد تک اور کتنی باقاعدگی سے استعمال کیا گیا۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تجارتی، رہائشی، تعلیمی اور طبی عمارتوں کی بڑی تعداد مناسب آگ بجھانے کے آلات، محفوظ اخراجی راستوں یا لازمی این او سی کے بغیر استعمال ہو رہی ہو سکتی ہے۔ درخواست گزار نے اسپتالوں اور تعلیمی اداروں کی رجسٹریشن کو مؤثر فائر سیفٹی کلیئرنس سے جوڑنے کی استدعا کی، کیونکہ ان مقامات پر مریض، بچے اور دیگر کمزور افراد موجود ہوتے ہیں۔ اس دعوے کی درست وسعت حکومتی رپورٹ اور ممکنہ آڈٹ سے واضح ہوگی۔

عدالت نے اس درخواست کو پمز آتش زدگی کی عدالتی تحقیقات سے متعلق ایک دوسرے مقدمے کے ساتھ یکجا کر دیا۔ سماعت کے دوران قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کی سابق سفارشات اور ان پر مبینہ عدم عمل کا معاملہ بھی اٹھایا گیا۔ چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو معاملے کا جائزہ لینے کی ہدایت دیتے ہوئے حکومت سے سابق پارلیمانی رپورٹ پر کیے گئے اقدامات کی تفصیل بھی طلب کی ہے۔

آئندہ سماعت میں وفاقی حکومت اور شہری انتظامیہ کے جوابات سے یہ طے ہونے میں مدد ملے گی کہ موجودہ ضوابط کے نفاذ میں کہاں خلا ہے اور عدالت کن اصلاحی اقدامات یا نگرانی کے احکامات پر غور کر سکتی ہے۔