اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی حکومت اور متعلقہ اداروں سے وضاحت طلب کی ہے کہ دارالحکومت میں فائر سیفٹی کے موجود قوانین کے باوجود ایسی عمارتیں مبینہ طور پر کیوں کام کر رہی ہیں جن کے پاس لازمی حفاظتی منظوری نہیں۔ چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے وفاق اور دیگر فریقوں کو دو ہفتوں میں جامع رپورٹ اور پیرا وار جواب جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔

یہ حکم ایک درخواست کی سماعت کے دوران دیا گیا جس میں اسلام آباد کی تمام تجارتی، رہائشی، تعلیمی اور طبی عمارتوں کا فائر سیفٹی آڈٹ کرانے، بغیر این او سی کام کرنے والی عمارتوں کی فہرست عام کرنے اور خلاف ورزی برقرار رکھنے والے مقامات کو سیل کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔ درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ متعدد عمارتوں میں آگ بجھانے کے مناسب آلات، ہنگامی اخراج کے راستے اور لازمی فائر سیفٹی کلیئرنس موجود نہیں، تاہم ان دعوؤں پر حتمی فیصلہ عدالت نے ابھی نہیں دیا۔

مقدمے کی اہمیت 26 اگست کو پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، پمز، میں ہونے والی آتشزدگی کے بعد بڑھی، جس میں کئی نومولود بچوں کی جانیں ضائع ہوئیں۔ درخواست میں کہا گیا کہ اس سانحے نے وفاقی دارالحکومت میں حفاظتی قوانین کے عملی نفاذ اور سرکاری نگرانی کے ممکنہ خلا کو نمایاں کیا ہے۔ عدالت نے معاملہ صرف پمز تک محدود رکھنے کے بجائے وسیع تر حفاظتی نظام سے متعلق سوالات کا جائزہ لینے کا عندیہ دیا۔

اسلام آباد فائر پریونشن اینڈ لائف سیفٹی ریگولیشنز 2010 کے تحت متعلقہ حکام کو عمارتوں کا معائنہ کرنے، حفاظتی خامیوں کی نشاندہی، اصلاحی اقدامات کا حکم اور خطرناک عمارت خالی کرانے کا اختیار حاصل ہے۔ قواعد میں عدم تعمیل کی صورت میں پولیس کی مدد سے لوگوں کو نکالنے اور مجسٹریٹ کی موجودگی میں عمارت سیل کرنے کا طریقہ بھی موجود ہے۔ درخواست گزار نے سوال اٹھایا کہ آیا یہ اختیارات معمول کے مطابق استعمال کیے جا رہے ہیں اور عمارتوں کی منظوری و تکمیل کے مختلف مراحل پر حفاظتی کلیئرنس کی جانچ ہو رہی ہے یا نہیں۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسپتالوں اور تعلیمی اداروں کی رجسٹریشن کو درست فائر سیفٹی این او سی سے مشروط کیا جائے کیونکہ ان مقامات پر بچے، مریض اور دیگر کمزور افراد موجود ہوتے ہیں۔ درخواست گزار نے آئین میں زندگی، وقار اور مساوات سے متعلق بنیادی حقوق کا حوالہ دیتے ہوئے مؤثر نفاذ کا مطالبہ کیا۔

عدالت نے اس درخواست کو پمز آتشزدگی کی عدالتی تحقیقات سے متعلق ایک اور مقدمے کے ساتھ یکجا کر دیا۔ چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو بھی معاملہ دیکھنے کی ہدایت کی اور حکومت سے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کی سابقہ رپورٹ پر کی گئی کارروائی کی تفصیلات مانگیں۔ آئندہ سماعت 24 ستمبر کو مقرر کی گئی ہے، جب فریقین کی رپورٹس اور جوابات کا جائزہ لیا جائے گا۔