اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال میں آگ لگنے سے 14 نومولود بچوں کی ہلاکت سے متعلق درخواستوں پر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 15 روز میں جواب، واقعے کی رپورٹ اور پیراوائز کمنٹس جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے وہ تحقیقاتی رپورٹس بھی پیش کرنے کی ہدایت کی جو واقعے کے بعد وزیراعظم کو دی گئی تھیں۔
چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر پر مشتمل سنگل بینچ نے 4 ستمبر کو درخواستوں کی سماعت کی۔ درخواست گزاروں نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ذریعے آزادانہ تحقیقات، پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور دیگر ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی اور انتظامی تقرریوں کی قانونی جانچ کی استدعا کی ہے۔ عدالت نے اس مرحلے پر ان مطالبات پر حتمی فیصلہ نہیں دیا بلکہ متعلقہ حکام سے ریکارڈ اور مؤقف طلب کیا ہے۔ آئندہ سماعت 28 ستمبر کے لیے مقرر بتائی گئی ہے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ سرکاری ہسپتالوں میں آگ سے تحفظ، ہنگامی اخراج اور بروقت ردعمل یقینی بنانا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔ درخواست گزاروں نے غفلت، فرائض سے مبینہ کوتاہی اور انتظامی ناکامی کی تحقیقات کا مطالبہ کیا، ساتھ ہی سی سی ٹی وی فوٹیج، الیکٹرانک ڈیٹا، ڈیوٹی روسٹر اور مرمت و دیکھ بھال کے ریکارڈ کو محفوظ رکھنے کی استدعا بھی کی۔ یہ نکات درخواست گزاروں کے الزامات اور مطالبات ہیں؛ ذمہ داری کا حتمی تعین عدالتی یا متعلقہ تفتیشی عمل کے بعد ہوگا۔
26 اگست کو پمز کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ کیئر سینٹر کی تیسری منزل پر قائم نرسری میں آگ لگی تھی۔ حکام کے مطابق وارڈ میں موجود 15 نومولود بچوں میں سے ایک کو بچایا جا سکا جبکہ 14 جانبر نہ ہو سکے۔ واقعے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی قائم کی، جس کی عبوری رپورٹ پر آٹھ اہلکاروں کی معطلی اور ذمہ دار پائے جانے والوں کے خلاف محکمانہ و فوجداری کارروائی کی ہدایت جاری کی گئی۔ معطلی یا کارروائی کا حکم حتمی عدالتی سزا نہیں بلکہ انتظامی اور تحقیقاتی عمل کا حصہ ہے۔
عبوری کمیٹی نے بتایا تھا کہ آگ لگنے کا قطعی ابتدائی سبب ابھی حتمی طور پر ثابت نہیں ہوا۔ رپورٹ میں داخلی برقی نظام یا آلات سے متعلق وجہ کو ممکن قرار دیا گیا، لیکن کسی مخصوص مشین یا جزو کو ثابت شدہ سبب نہیں کہا گیا۔ اسی رپورٹ کے مطابق نرسری میں خودکار فائر الارم اور اسپرنکلر نظام موجود نہیں تھا، ہنگامی طریقۂ کار اور تربیت ناکافی تھی اور آگ کے بعد حالات تقریباً دو منٹ میں انتہائی خراب ہو گئے۔ ان عبوری مشاہدات کے باوجود انفرادی ذمہ داری اور آگ کے اصل سبب سے متعلق تفصیلی تحقیقات باقی ہیں۔
درخواست گزار ناصر عظیم خان نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ ان کا اپنا نومولود بیٹا ستمبر 2025 میں پمز میں پیش آنے والے ایک الگ آتشزدگی واقعے میں جاں بحق ہوا تھا، جبکہ جولائی 2026 میں خواتین کے نرسنگ ہاسٹل میں بھی آگ لگی تھی۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ سابق واقعات اور حفاظتی کمزوریوں کے باوجود مؤثر احتساب نہیں ہوا۔ عدالت کی جانب سے رپورٹس طلب کیے جانے کے بعد اب حکام کو اپنے اقدامات، دستیاب ریکارڈ اور تحقیقاتی نتائج کی وضاحت کرنا ہوگی۔
مقدمے کا اگلا مرحلہ فریقین کے تحریری جواب اور سرکاری رپورٹس کے عدالتی جائزے پر منحصر ہے۔ ایف آئی اے تحقیقات، کسی افسر کی برطرفی، فوجداری مقدمے یا عدالتی کمیشن سے متعلق کوئی حتمی حکم ابھی سامنے نہیں آیا۔




