اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال میں آتشزدگی سے 14 نومولود بچوں کی ہلاکت کے معاملے پر دائر درخواستوں میں متعلقہ فریقین سے 15 دن کے اندر جواب طلب کر لیا ہے۔ عدالت نے واقعے کی رپورٹ، شق وار جواب اور وزیراعظم کو پیش کی گئی متعلقہ تحقیقاتی رپورٹس بھی عدالتی ریکارڈ میں جمع کرانے کی ہدایت کی۔
یہ حکم اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر پر مشتمل سنگل بنچ نے 4 ستمبر 2026 کو سماعت کے بعد جاری کیا۔ درخواست گزاروں نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ذریعے تحقیقات، پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے خلاف کارروائی اور ذمہ دار حکام کا تعین کرنے کی استدعا کی ہے۔ عدالت نے اس مرحلے پر ان مطالبات کو منظور یا مسترد نہیں کیا، بلکہ جواب اور ریکارڈ طلب کیا ہے۔
پمز کے مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال کی تیسری منزل کے وارڈ میں 26 اگست کو آگ لگی تھی، جس میں 14 نومولود بچے جان سے گئے۔ واقعے کے بعد متاثرہ خاندانوں، سیاسی جماعتوں اور شہری حلقوں نے ذمہ داری کے تعین اور حفاظتی انتظامات کی جانچ کا مطالبہ کیا۔ ہلاکتوں کی تعداد اور واقعہ رپورٹ شدہ حقائق ہیں، جبکہ غفلت، ذمہ داری اور مجرمانہ یا محکمانہ قصور کا حتمی تعین ابھی تفتیش اور قانونی عمل سے ہونا ہے۔
تحریری حکم کے مطابق درخواست گزار ناصر عظیم خان نے بتایا کہ ستمبر 2025 میں ایک الگ آتشزدگی میں ان کا نومولود بیٹا جاں بحق ہوا تھا۔ انہوں نے 6 جولائی 2026 کو پمز کے خواتین نرسنگ ہاسٹل میں آگ لگنے کے واقعے کا حوالہ بھی دیا۔ درخواست میں ان واقعات کو ادارے کے حفاظتی نظام اور انتظامی جواب دہی کے وسیع تر سوال سے جوڑا گیا ہے۔ یہ درخواست گزار کا بیان ہے اور ہر سابق واقعے کی ذمہ داری اس مقدمے میں ابھی ثابت نہیں ہوئی۔
درخواست گزار نے پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور متعلقہ افسران کے خلاف آزادانہ انکوائری کی استدعا کی۔ وکیل کے مطابق درخواست میں مبینہ غفلت، فرائض سے کوتاہی اور انتظامی ناکامی کی تحقیقات مانگی گئی ہیں۔ کسی افسر کے خلاف الزام یا عدالتی درخواست بذاتِ خود جرم، غفلت یا نااہلی کا ثابت شدہ فیصلہ نہیں؛ متعلقہ حکام کو جواب اور دفاع کا موقع ملے گا۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ سرکاری ہسپتال میں آگ سے بچاؤ، ہنگامی اخراج، حفاظتی آلات اور مؤثر انتظامیہ یقینی بنانا متعلقہ حکام کی ذمہ داری ہے۔ درخواست گزار نے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور دیگر افسران کی تقرریوں کی قانونی جانچ، سی سی ٹی وی فوٹیج، الیکٹرانک ڈیٹا، ڈیوٹی ریکارڈ اور دیکھ بھال سے متعلق دستاویزات محفوظ رکھنے کی بھی استدعا کی تاکہ ممکنہ شواہد ضائع نہ ہوں۔
عدالت کی جانب سے وزیراعظم کو پیش کی گئی رپورٹس منگوانا اس بات کی اجازت دے گا کہ پہلے سے کیے گئے انتظامی یا تحقیقاتی اقدامات کا جائزہ عدالتی نگرانی میں لیا جا سکے۔ تاہم رپورٹس جمع ہونے سے پہلے ان کے نتائج، سفارشات یا کسی شخص کی ذمہ داری کے بارے میں قیاس کرنا درست نہیں ہوگا۔ آئندہ سماعت میں فریقین کے جوابات اور دستاویزات سامنے آنے کے بعد عدالت اگلے قانونی مرحلے کا تعین کرے گی۔
اس وقت مقدمہ ابتدائی عدالتی جانچ کے مرحلے میں ہے۔ ایف آئی اے سے تحقیقات کرانے، عدالتی کمیشن بنانے، کسی افسر کو ہٹانے، شواہد محفوظ کرنے یا ہرجانے سے متعلق حتمی احکامات جاری نہیں ہوئے۔ تصدیق شدہ عدالتی پیش رفت صرف یہ ہے کہ متعلقہ حکام کو 15 روز میں جواب، واقعے کی رپورٹ، شق وار تبصرے اور وزیراعظم کو پیش کی گئی رپورٹس جمع کرانے کا حکم دیا گیا ہے۔
واقعے کی سنگینی کے پیش نظر آئندہ کارروائی میں آگ کی وجہ، فائر سیفٹی نظام، بجلی یا آلات کی دیکھ بھال، عملے کی تربیت، وارڈ سے انخلا اور ہنگامی ردعمل کے ریکارڈ اہم ہو سکتے ہیں۔ ان تمام نکات پر حتمی نتیجہ ماہر رپورٹ، سرکاری ریکارڈ، گواہی اور عدالت کے فیصلے سے ہی سامنے آئے گا۔




