اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے پمز کے مدر اینڈ چائلڈ اسپتال میں آتشزدگی سے 14 نومولود بچوں کی ہلاکت سے متعلق درخواستوں پر فریقین کو 15 روز میں جواب جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔ چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر پر مشتمل ایک رکنی بینچ نے واقعے کی رپورٹ، پیراوائز کمنٹس اور وزیراعظم کو پیش کی گئی تحقیقاتی رپورٹس کی نقول بھی عدالت کے سامنے رکھنے کی ہدایت کی۔
درخواست گزاروں نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں 26 اگست کو پیش آنے والے سانحے کی آزادانہ تحقیقات، مبینہ غفلت کے ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی اور بعض انتظامی تقرریوں کی قانونی جانچ مانگی ہے۔ ایک درخواست میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ذریعے انکوائری اور پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کو عہدے سے ہٹانے کی استدعا بھی کی گئی۔ عدالت نے ان مطالبات پر ابھی کوئی حتمی حکم نہیں دیا بلکہ متعلقہ فریقوں سے جواب طلب کیا ہے۔
تحریری حکم کے مطابق حکام کو واقعے سے متعلق رپورٹ کے ساتھ ہر دعوے کا الگ جواب دینا ہوگا۔ عدالت نے وہ رپورٹس بھی منسلک کرنے کو کہا جو سانحے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کی گئی تھیں۔ دستیاب عدالتی رپورٹنگ کے مطابق آئندہ سماعت 28 ستمبر کو مقرر کی گئی ہے، جب جوابات اور ریکارڈ کی روشنی میں مقدمے کے اگلے مرحلے کا تعین ہو سکتا ہے۔
درخواست گزار ناصر عظیم خان نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کا اپنا نومولود بیٹا ستمبر 2025 میں پمز میں آگ کے ایک واقعے میں جاں بحق ہوا تھا۔ درخواست میں 6 جولائی 2026 کو پمز کے خواتین نرسنگ ہاسٹل میں آتشزدگی کا حوالہ بھی دیا گیا۔ یہ نکات درخواست گزار کے دعوے ہیں اور عدالت نے موجودہ حکم میں ان کی صحت پر کوئی حتمی نتیجہ نہیں دیا۔
وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ سی سی ٹی وی فوٹیج، الیکٹرانک ڈیٹا، ڈیوٹی روسٹر، دیکھ بھال کا ریکارڈ اور دیگر متعلقہ شواہد محفوظ کیے جائیں، تاکہ کسی ممکنہ تفتیش میں ریکارڈ ضائع نہ ہو۔ درخواست میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور دوسرے افسران کی تقرریوں کو قانون کے مطابق جانچنے اور مبینہ انتظامی ناکامی کی ذمہ داری متعین کرنے کا مطالبہ بھی شامل ہے۔ یہ تمام استدعائیں عدالتی غور کے مرحلے میں ہیں۔
26 اگست کی آگ پمز کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ کیئر سینٹر کی تیسری منزل پر واقع نرسری میں لگی تھی۔ سرکاری اور معتبر بین الاقوامی رپورٹنگ کے مطابق 14 بچے جاں بحق ہوئے، جبکہ ایک بچے کو بچایا گیا۔ حکومتی عبوری انکوائری کے بعد متعدد افسران کی معطلی اور ذمہ دار پائے جانے والوں کے خلاف فوجداری کارروائی کی ہدایت دی گئی، مگر ان انتظامی اقدامات کو کسی شخص کی عدالتی سزا نہیں سمجھا جا سکتا۔
سانحے کے بعد آگ کے الارم، اسپرنکلر، تربیت، ہنگامی اخراج اور ریسکیو ردعمل سے متعلق سوالات اٹھے۔ سرکاری انکوائری میں کئی خامیوں کی نشاندہی کی گئی، جبکہ بعض نکات پر اسپتال انتظامیہ اور عینی شاہدین کے بیانات مختلف رہے۔ ہائی کورٹ میں زیر سماعت درخواستوں کا مقصد انہی دعوؤں، سرکاری رپورٹس اور انتظامی ذمہ داری کا قانونی جائزہ لینا ہے۔
موجودہ عدالتی حکم کا تصدیق شدہ دائرہ جواب، ریکارڈ اور رپورٹس طلب کرنے تک محدود ہے۔ عدالت نے نہ کسی افسر کو مجرم قرار دیا، نہ ایف آئی اے انکوائری کا حتمی حکم دیا اور نہ ہی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی برطرفی منظور کی۔ ان معاملات کا فیصلہ فریقین کے جوابات، دستیاب شواہد اور آئندہ سماعتوں کے بعد ہی ہو سکے گا۔




