اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے 2022 کا وہ واحد رکنی فیصلہ کالعدم کر دیا ہے جس میں راول جھیل کے کنارے پاکستان نیول فارمز اور پاکستان نیوی سیلنگ کلب کو غیرقانونی قرار دیا گیا تھا۔ جسٹس انعام امین منہاس اور جسٹس شاہ رخ ارجمند پر مشتمل بینچ نے 2 ستمبر 2026 کو وزارتِ دفاع، سابق نیول چیف ایڈمرل ریٹائرڈ ظفر محمود عباسی اور دیگر متاثرہ فریقوں کی انٹرا کورٹ اپیلیں منظور کر لیں۔

اپیلیٹ فیصلے کے نتیجے میں سیلنگ کلب کی عمارت گرانے کی سابق ہدایت بھی ختم ہو گئی۔ اسی طرح سابق نیول چیف اور دیگر افسران کے خلاف مبینہ بدعنوانی، محکمانہ بدعملی یا فوجداری ذمہ داری سے متعلق کارروائی شروع کرنے کی ہدایات کالعدم قرار دی گئیں۔ یہ نتیجہ 2022 کے عدالتی احکامات کو ختم کرتا ہے؛ اسے کسی الگ فوجداری مقدمے میں ٹرائل کے بعد بریت یا ہر ممکن انتظامی سوال کے حتمی تصفیے کے طور پر نہیں پڑھا جانا چاہیے۔

ڈویژن بینچ نے آڈیٹر جنرل آف پاکستان کو قومی خزانے کے مبینہ نقصان کا تخمینہ لگانے اور ذمہ دار قرار دیے گئے افسران سے رقم وصول کرنے کی ہدایت بھی ختم کر دی۔ نیول فارمز کی زمین پاکستان نیوی کو منتقل کرنے کو غیرقانونی قرار دینے اور زمین ہیڈکوارٹر آفس کے نام منتقل کرنے سے متعلق سابق حکم بھی برقرار نہیں رہا۔

اصل فیصلہ 7 جنوری 2022 کو اُس وقت کے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سنایا تھا۔ واحد رکنی بینچ نے قرار دیا تھا کہ پاکستان نیوی اپنے ادارہ جاتی دائرۂ کار سے باہر رئیل اسٹیٹ سرگرمی نہیں کر سکتی، نیول فارمز اور سیلنگ کلب کو غیرقانونی کہا تھا اور سیلنگ کلب تین ہفتوں میں گرانے کی ہدایت دی تھی۔ وزارتِ دفاع، سابق نیول چیف اور دیگر فریقوں نے انہی نتائج کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلیں دائر کی تھیں۔

اپیل کی سماعت کے دوران وفاق اور وزارتِ دفاع کے وکیل سردار احمد جمال سکھیرا نے مؤقف اختیار کیا کہ اصل درخواست کا بنیادی تنازع نیول فارمز کی جانب سے رہائشیوں کو عمارت سازی کے قواعد کی مبینہ خلاف ورزی پر جاری نوٹسوں سے متعلق تھا۔ ان کے مطابق 2020 میں نیول فارمز ڈائریکٹوریٹ نے کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو آگاہ کیا تھا کہ این او سی کے تحت سی ڈی اے کے بلڈنگ بائی لاز لاگو ہوں گے اور رہائشیوں کو بھی فوری عمل درآمد کی اطلاع دی گئی تھی۔ یہ اپیل کنندگان کا عدالتی مؤقف تھا۔

وکیل نے دلیل دی کہ اصل شکایت 2022 کے فیصلے سے پہلے ہی بڑی حد تک حل ہو چکی تھی اور عدالت نے درخواست کے ضروری دائرے سے باہر نتائج اخذ کیے۔ انہوں نے یہ اعتراض بھی اٹھایا کہ فیصلے سے متاثر ہونے والے سو سے زیادہ کلب ارکان کو نوٹس نہیں دیا گیا اور انہیں فریق نہیں بنایا گیا، جس سے قدرتی انصاف، مناسب قانونی عمل اور منصفانہ سماعت کے اصول متاثر ہوئے۔ معتبر عدالتی رپورٹس کے مطابق اپیلیٹ بینچ نے انٹرا کورٹ اپیلیں منظور کرتے ہوئے سابق نتائج اور ہدایات ختم کر دیں۔

تازہ حکم کا درست قانونی اثر 2022 کے واحد رکنی فیصلے کو برقرار نہ رہنے دینا ہے۔ اس سے یہ لازم نتیجہ اخذ نہیں ہوتا کہ ڈویژن بینچ نے ہر تعمیر، این او سی، زمین کے عنوان یا مستقبل کی ریگولیٹری تعمیل پر نیا جامع اجازت نامہ جاری کیا ہے۔ سی ڈی اے کے بلڈنگ و ماحولیاتی قواعد اور دیگر قابلِ اطلاق قوانین کے تحت آئندہ کوئی سوال پیدا ہو تو وہ متعلقہ فورم اور مخصوص حقائق پر الگ طے ہو سکتا ہے۔

فیصلے کی مکمل قانونی نظیر اور وجوہات کا حتمی مطالعہ تحریری عدالتی حکم سے ہوگا۔ فی الحال مصدقہ نتیجہ یہ ہے کہ اپیلیں منظور ہوئیں اور نیول فارمز، سیلنگ کلب، انہدام، سابق افسران کے خلاف کارروائی اور مبینہ مالی نقصان کی ریکوری سے متعلق 2022 کی تمام مرکزی ہدایات کالعدم ہو گئی ہیں۔