اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے پاکستان نیول فارمز اور راول جھیل کے کنارے پاکستان نیوی سیلنگ کلب کو غیر قانونی قرار دینے والا 2022 کا سنگل بینچ فیصلہ کالعدم کردیا ہے۔ ڈان اور ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق جسٹس انعام امین منہاس اور جسٹس شاہ رخ ارجمند پر مشتمل ڈویژن بینچ نے وزارت دفاع، سابق چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل ریٹائرڈ ظفر محمود عباسی اور دوسرے متاثرہ فریقوں کی انٹرا کورٹ اپیلیں منظور کیں۔ نئی عدالتی پیش رفت کا مطلب یہ ہے کہ زیر اپیل سابقہ فیصلہ اور اس سے جاری مخصوص ہدایات اب برقرار نہیں رہیں؛ اسے ہر ممکن تعمیراتی یا ضابطہ جاتی سوال پر الگ جامع اجازت نامہ نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

7 جنوری 2022 کو اُس وقت کے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کے سنگل بینچ نے نیول سیلنگ کلب کی تعمیر اور پاکستان نیول فارمز کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔ سابق فیصلے میں سیلنگ کلب منہدم کرنے، متعلقہ زمین اور سرگرمیوں کے بارے میں کارروائی، اور سابق نیول چیف سمیت بعض افسران کے خلاف مبینہ بدانتظامی اور فوجداری ذمہ داری کے تعین کے لیے اقدامات کی ہدایت کی گئی تھی۔ ڈویژن بینچ نے اپیلیں منظور کرکے انہدام اور انضباطی و فوجداری کارروائی سے متعلق یہ ہدایات بھی ختم کردیں۔

نئے فیصلے کے تحت آڈیٹر جنرل آف پاکستان کو قومی خزانے کے مبینہ نقصان کا تخمینہ لگانے اور ذمہ دار قرار دیے گئے افسران سے رقم وصول کرنے کی سابق ہدایت بھی کالعدم ہوگئی۔ اسی طرح نیول فارمز کی زمین کی پاکستان نیوی سے منسلک دفتر کے نام منتقلی کو غیر قانونی قرار دینے اور زمین کی ملکیت کے بارے میں سابقہ انتظامی ہدایات بھی برقرار نہیں رہیں۔ یہ تمام نکات 2022 کے فیصلے کے نتائج تھے جنہیں اپیلی بینچ نے ختم کیا؛ نئی کارروائی میں کسی شخص کے خلاف جرم یا مالی ذمہ داری ثابت نہیں کی گئی۔

وفاق اور وزارت دفاع کے وکیل سردار احمد جمال سکھیرا نے اپیل کی سماعت میں مؤقف اختیار کیا کہ اصل آئینی درخواست بنیادی طور پر پاکستان نیول فارمز کی جانب سے رہائشیوں کو عمارتوں کے ضوابط کی مبینہ خلاف ورزیوں پر جاری نوٹسوں سے متعلق تھی۔ ان کے مطابق نیول فارمز کی ڈائریکٹوریٹ نے 2020 میں خود کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو لکھا تھا کہ سی ڈی اے کے عدم اعتراض سرٹیفکیٹ کے تحت عمارتوں کے ضوابط پر عمل ضروری ہے، اور رہائشیوں کو بھی اس بارے میں آگاہ کردیا گیا تھا۔ یہ اپیل کنندگان کے وکیل کی دلیل تھی؛ اسے کسی الگ انتظامی یا تکنیکی تنازع کے تمام حقائق پر حتمی عدالتی نتیجہ نہیں کہا جاسکتا۔

وکیل نے یہ بھی کہا کہ عمارتوں کے قواعد پر عمل درآمد سے متعلق اصل شکایت 2022 کے سنگل بینچ فیصلے سے پہلے ہی بڑی حد تک حل ہوچکی تھی۔ اپیل کنندگان کا مؤقف تھا کہ ابتدائی درخواست کے دائرے سے باہر جاکر نیول فارمز، سیلنگ کلب، زمین کی منتقلی اور افسران کی ذمہ داری کے بارے میں وسیع احکامات جاری کیے گئے۔ ڈویژن بینچ نے انٹرا کورٹ اپیلیں منظور کرلیں، تاہم دستیاب نیوز رپورٹس میں مکمل تفصیلی فیصلے کی تمام قانونی وجوہات نقل نہیں کی گئیں۔

2022 کے فیصلے نے راول جھیل کے ماحولیاتی تحفظ، وفاقی دارالحکومت میں زمین کے استعمال، مسلح افواج کے اداروں کی تجارتی یا جائیداد سے متعلق سرگرمیوں اور شہری اداروں کے اختیار پر وسیع سوالات اٹھائے تھے۔ موجودہ اپیلی نتیجے سے سابق فیصلے کی قانونی قوت ختم ہوگئی ہے، لیکن سی ڈی اے کے عمارت ضوابط، ماحولیاتی منظوری یا زمین کے ریکارڈ سے متعلق جو عمومی قوانین نافذ ہیں وہ اپنے قانونی دائرے میں برقرار رہتے ہیں۔ کسی مخصوص سہولت کی آئندہ حیثیت ان قوانین، مجاز اداروں کے فیصلوں اور اگر مزید عدالتی کارروائی ہوئی تو اس کے نتائج سے طے ہوگی۔

عدالتی فیصلے میں سابق نیول چیف یا دوسرے افسران کو کسی نئے الزام میں مجرم یا بری قرار دینے کی الگ فوجداری سماعت نہیں ہوئی؛ اپیل میں 2022 کے حکم اور اس کی ہدایات کا جائزہ لیا گیا۔ اسی طرح سابق فیصلے میں درج الزامات یا مشاہدات کو اب ثابت شدہ فوجداری نتائج کے طور پر پیش کرنا درست نہیں، کیونکہ ان پر کارروائی کی ہدایت ہی اپیلی بینچ نے کالعدم کردی ہے۔

فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت ڈویژن بینچ کی جانب سے انٹرا کورٹ اپیلوں کی منظوری، 2022 کے سنگل بینچ فیصلے کا خاتمہ، سیلنگ کلب منہدم کرنے کی ہدایت کی منسوخی اور افسران کے خلاف کارروائی و مالی وصولی سے متعلق احکامات کا کالعدم ہونا ہے۔ اگر کسی فریق نے اس فیصلے کو مزید اعلیٰ عدالت میں چیلنج کیا تو اگلی قانونی حیثیت اس کارروائی سے واضح ہوگی؛ دستیاب رپورٹس میں ایسی بعد کی اپیل کی تصدیق نہیں۔