اسلام آباد ہائیکورٹ نے 2022 کا وہ فیصلہ کالعدم کر دیا ہے جس میں پاکستان نیول فارمز اور اسلام آباد کے سیلنگ کلب سے متعلق سرگرمیوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے متعدد ہدایات جاری کی گئی تھیں۔ ڈان کے مطابق جسٹس انعام امین منہاس اور جسٹس شاہرُخ ارجمند پر مشتمل ڈویژن بینچ نے سنگل بینچ کے فیصلے کے خلاف دائر انٹرا کورٹ اپیلیں منظور کر لیں۔
تازہ فیصلے کے نتیجے میں سابق حکم کا وہ حصہ بھی ختم ہو گیا جس میں آڈیٹر جنرل آف پاکستان کو قومی خزانے کو مبینہ نقصان کا تخمینہ لگانے اور ذمہ دار قرار دیے جانے والے افسران سے رقم وصول کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ عدالت کا موجودہ حکم اپیلوں کی عدالتی جانچ کا نتیجہ ہے؛ اسے کسی فرد کے خلاف الگ فوجداری الزام، تادیبی نتیجے یا مالی بدعنوانی کی حتمی تصدیق کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
2022 کے سنگل بینچ فیصلے نے وفاقی دارالحکومت میں زمین کے استعمال، تعمیرات اور سرکاری اداروں کے دائرۂ اختیار سے متعلق اہم سوالات اٹھائے تھے۔ اس کے خلاف متعلقہ فریقوں نے انٹرا کورٹ اپیلیں دائر کیں، جن پر ڈویژن بینچ نے سماعت کے بعد سابق فیصلہ برقرار نہ رکھنے کا حکم دیا۔ تازہ عدالتی نتیجہ قانونی حیثیت کے اس تنازعے میں نمایاں تبدیلی ہے کیونکہ بنیادی فیصلہ اور اس سے جڑی مالی ہدایات دونوں ختم ہو گئی ہیں۔
اسلام آباد میں سرکاری یا ادارہ جاتی زمین کے استعمال سے متعلق معاملات عموماً کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے قواعد، ماسٹر پلان، لیز یا الاٹمنٹ کی شرائط اور متعلقہ وفاقی قوانین کے باہمی اطلاق سے جڑے ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے ایسے مقدمات میں کسی ایک انتظامی اقدام کی قانونی حیثیت کا فیصلہ متعدد دستاویزات اور قانونی اختیارات کی تشریح پر منحصر ہوتا ہے۔
ڈویژن بینچ کے تفصیلی قانونی استدلال سے یہ واضح ہوگا کہ اپیلیں کن بنیادی نکات پر منظور کی گئیں اور 2022 کے فیصلے میں کون سی قانونی خامیاں پائی گئیں۔ فی الحال رپورٹ شدہ نتیجہ یہ ہے کہ سابق فیصلہ اور آڈیٹر جنرل کو مبینہ نقصان کے تعین اور وصولی سے متعلق ہدایت کالعدم ہو چکی ہے۔ اگر کسی فریق کی جانب سے مزید عدالتی چارہ جوئی کی جاتی ہے تو وہ اس تنازعے کا اگلا الگ مرحلہ ہوگا۔




