اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے بعض ٹی وی چینلز پر عائد جرمانے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے معاملہ دوبارہ پیمرا کو بھیج دیا ہے۔ یہ کارروائی 2017 کے فیض آباد دھرنے کے دوران مبینہ نفرت انگیز تقاریر کی نشریات سے متعلق تھی۔ عدالت نے قرار دیا کہ ریگولیٹر متعلقہ چینلز کو مکمل طور پر سننے اور مناسب موقع فراہم کرنے کے بعد قانون کے مطابق نیا فیصلہ کرے۔
مقدمے میں بنیادی سوال یہ تھا کہ پیمرا کی جانب سے جرمانہ عائد کرنے سے پہلے متاثرہ نشریاتی اداروں کو مؤثر سماعت اور دفاع کا پورا حق دیا گیا تھا یا نہیں۔ ہائیکورٹ نے سابقہ حکم کو برقرار رکھنے کے بجائے اسے ختم کرکے ریگولیٹری عمل دوبارہ کرنے کی ہدایت دی۔ اس فیصلے کا مطلب یہ نہیں کہ عدالت نے زیر بحث نشریاتی مواد کے بارے میں حتمی طور پر یہ طے کردیا ہے کہ کوئی خلاف ورزی ہوئی یا نہیں؛ اب اس معاملے کا فیصلہ پیمرا کو قانونی طریقہ کار اور سماعت کی شرائط پوری کرکے کرنا ہوگا۔
فیض آباد دھرنا 2017 میں اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم پر کئی ہفتوں تک جاری رہا تھا اور اس دوران ٹیلی ویژن اور دیگر ذرائع ابلاغ کی کوریج کے طریقہ کار پر مختلف قانونی اور ریگولیٹری سوالات اٹھے تھے۔ پیمرا نے بعض نشریات کو اپنے قواعد اور ضابطوں سے متصادم قرار دیتے ہوئے کارروائی کی تھی، جسے متاثرہ اداروں نے عدالت میں چیلنج کیا۔
عدالتی فیصلے میں طریقہ کار کی شفافیت اور فریقین کو سننے کے حق کو مرکزی اہمیت دی گئی ہے۔ پیمرا اب دستیاب ریکارڈ، متعلقہ پروگراموں اور فریقین کے مؤقف کا دوبارہ جائزہ لے گا۔ کسی نئی سزا یا ریگولیٹری اقدام کا انحصار اس نئی کارروائی کے نتیجے پر ہوگا۔ اس طرح موجودہ عدالتی حکم نے سابقہ جرمانہ ختم کیا ہے، لیکن اصل ریگولیٹری تنازع کو حتمی طور پر بند نہیں کیا۔
