اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے 2017 کے فیض آباد دھرنے کے دوران مبینہ نفرت انگیز تقاریر کی نشریات سے متعلق متعدد ٹی وی چینلز کے خلاف پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کی کارروائی کالعدم قرار دے دی ہے۔ عدالت نے پیمرا کو ہدایت کی ہے کہ متاثرہ چینلز کو مکمل حقِ سماعت فراہم کرنے کے بعد معاملے کا ازسرِنو فیصلہ کیا جائے۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق مقدمہ پیمرا کی اس کارروائی سے متعلق تھا جس میں دھرنے کے دوران نشر ہونے والے مواد کو قواعد کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے چینلز کے خلاف جرمانوں سمیت تادیبی اقدامات کیے گئے تھے۔ چینلز نے ان فیصلوں کو عدالت میں چیلنج کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ کارروائی کے دوران انہیں مناسب قانونی سماعت اور اپنے دفاع کا پورا موقع نہیں دیا گیا۔
ہائی کورٹ کے فیصلے کا بنیادی نکتہ طریقۂ کار اور حقِ سماعت سے متعلق ہے۔ عدالت نے الزامات کے حق یا مخالفت میں حتمی نتیجہ دینے کے بجائے پیمرا کو معاملہ دوبارہ سننے کا حکم دیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سابق ریگولیٹری کارروائی فی الحال برقرار نہیں رہی، تاہم یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ عدالت نے زیرِ بحث نشریاتی مواد کو قواعد کے مطابق قرار دے دیا ہے۔ پیمرا نئی کارروائی میں شواہد، متعلقہ قوانین اور چینلز کے جواب سننے کے بعد نیا فیصلہ کر سکتا ہے۔
فیض آباد دھرنے کے دوران میڈیا کوریج، نفرت انگیز مواد اور ریاستی اداروں کی ذمہ داریوں سے متعلق مختلف قانونی اور انتظامی معاملات کئی برس سے عدالتوں اور ریگولیٹری اداروں کے سامنے آتے رہے ہیں۔ موجودہ فیصلے میں بھی میڈیا ریگولیشن کے ساتھ بنیادی قانونی اصول، یعنی کسی فریق کے خلاف فیصلہ کرنے سے پہلے اسے مؤثر سماعت کا موقع دینا، مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔
پیمرا کو اب متعلقہ ٹی وی چینلز کو نوٹس، ریکارڈ اور الزامات سے آگاہ کرتے ہوئے ان کا مؤقف سننا ہوگا۔ نئی سماعت کے بعد ریگولیٹر سابق نتیجے کو برقرار رکھنے، تبدیل کرنے یا کارروائی ختم کرنے کا فیصلہ کر سکتا ہے، تاہم ایسا فیصلہ قانونی وجوہات اور دستیاب مواد کی بنیاد پر کرنا ہوگا۔
یہ حکم پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا کی نگرانی اور ریگولیٹری اختیارات کے استعمال میں قانونی طریقۂ کار کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ آئندہ مرحلے میں پیمرا کی ازسرِنو سماعت اور اس کے بعد جاری ہونے والا حکم اس تنازع کے عملی نتیجے کا تعین کرے گا۔

