اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کے گھروں پر مبینہ غیر قانونی چھاپوں اور ہراسانی سے متعلق درخواست پر وفاقی دارالحکومت کے سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس آپریشنز کو 24 ستمبر کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔ عدالت نے یہ حکم پی ٹی آئی کے مجوزہ احتجاج اور لانگ مارچ سے قبل دائر درخواست کی سماعت کے دوران دیا۔

ڈان کے مطابق جسٹس راجہ انعام امین منہاس نے ملک عامر ڈوگر اور شعیب شاہین سمیت پی ٹی آئی رہنماؤں کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزاروں کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پولیس اہلکار پارٹی رہنماؤں کے گھروں پر مبینہ طور پر قانونی اجازت کے بغیر چھاپے مار رہے ہیں۔ وکیل نے استدعا کی کہ پولیس کو گھروں کی حرمت اور اہل خانہ کی نجی زندگی میں غیر قانونی مداخلت سے روکا جائے۔

عدالتی حکم کے مطابق ایس ایس پی آپریشنز کو 24 ستمبر کو پیش ہو کر درخواست میں اٹھائے گئے الزامات کا جواب دینے کے لیے کہا گیا ہے۔ اس مرحلے پر عدالت نے درخواست گزاروں کے تمام الزامات کو ثابت شدہ حقیقت قرار نہیں دیا بلکہ متعلقہ پولیس افسر سے وضاحت طلب کی ہے۔

یہ عدالتی کارروائی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے احتجاج سے قبل سکیورٹی انتظامات سخت کیے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اسلام آباد اور اٹک پل سمیت مختلف مقامات پر دو ہزار سے زیادہ کنٹینرز رکھے گئے ہیں۔ مختلف شہروں میں متعدد پی ٹی آئی کارکنوں کو حراست میں لیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جبکہ سابق وزیراعظم عمران خان کی تین بہنیں احتیاطی حراست کے قوانین کے تحت 30 روز کے لیے جیل میں ہیں۔

اسی روز اسلام آباد ہائیکورٹ میں رکن قومی اسمبلی ثنااللہ مستی خیل کی بازیابی کے لیے بھی درخواست دائر کی گئی۔ درخواست گزار نے الزام عائد کیا کہ انہیں 20 ستمبر کی شام پارلیمنٹ لاجز سے ایسے افراد لے گئے جنہوں نے خود کو سکیورٹی اداروں سے وابستہ بتایا، مگر کوئی وارنٹ یا ایف آئی آر پیش نہیں کی۔ یہ دعویٰ درخواست گزار کا الزام ہے اور متعلقہ حکام کا مکمل جواب عدالتی کارروائی میں سامنے آنا باقی ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے بھی الگ بیان میں بعض وکلا کو مبینہ طور پر ہراساں اور حراست میں لیے جانے پر تشویش ظاہر کی اور پولیس قیادت سے مداخلت کا مطالبہ کیا۔ بار نے کہا کہ امن و امان برقرار رکھنا ضروری ہے، لیکن قانونی اختیار اور ضابطے کے بغیر کسی شخص کی آزادی محدود نہیں کی جا سکتی۔

پی ٹی آئی کی احتجاجی سرگرمیوں، پولیس اقدامات اور عدالتی درخواستوں کے بارے میں متعدد فریق مختلف دعوے کر رہے ہیں۔ اس لیے تازہ عدالتی حکم کی عملی اہمیت یہ ہے کہ ہائیکورٹ نے پولیس کے سینئر افسر کو بلا کر الزامات پر براہ راست جواب طلب کیا ہے؛ ان الزامات کے درست یا غلط ہونے کا حتمی تعین آئندہ عدالتی کارروائی اور دستیاب شواہد سے ہوگا۔