اسلام آباد: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں طویل تنازع پاکستان کے لیے مہنگائی، مالیاتی استحکام اور بیرونی فنانسنگ کے خطرات دوبارہ بڑھا سکتا ہے۔ آئی ایم ایف کے تازہ علاقائی اقتصادی جائزے میں کہا گیا ہے کہ خوراک اور توانائی کی بلند قیمتیں، قرض لینے کی زیادہ لاگت اور بیرونی مالی ضروریات پر دباؤ ایسے عوامل ہیں جو پاکستان سمیت خطے کی کمزور معیشتوں کے لیے مشکلات پیدا کرسکتے ہیں۔
فنڈ کے مطابق اگر مہنگائی کا دباؤ توقع سے زیادہ شدت اختیار کرتا ہے تو پاکستان میں مانیٹری پالیسی کو مزید سخت کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے، خصوصاً ایسی صورت میں جب حقیقی پالیسی شرح تخمینہ شدہ غیر جانبدار سطح سے نیچے چلی جائے۔ یہ ایک خطرے کا منظرنامہ ہے، حتمی پیش گوئی نہیں؛ اس کا انحصار توانائی کی عالمی قیمتوں، تنازع کی مدت، درآمدی لاگت اور ملکی قیمتوں پر منتقلی کی رفتار پر ہوگا۔
آئی ایم ایف نے حکومتی قرض سے متعلق خدشات کو بھی اہم قرار دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق زیادہ سرکاری قرض رکھنے اور بڑی مجموعی فنانسنگ ضروریات والے ممالک میں قرض لینے کی لاگت بنیادی اندازوں سے اوپر جاسکتی ہے۔ پاکستان کو ان معیشتوں میں شامل کیا گیا ہے جہاں بلند فنانسنگ ضروریات کے باعث عالمی مالی حالات میں سختی یا سرمایہ کاروں کے خطرے کے تصور میں تبدیلی مالی دباؤ بڑھا سکتی ہے۔
توانائی کی قیمتیں پاکستان کے بیرونی کھاتے اور مقامی مہنگائی دونوں کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہیں کیونکہ ملک تیل اور دیگر توانائی مصنوعات کی قابل ذکر مقدار درآمد کرتا ہے۔ عالمی نرخ بڑھنے کی صورت میں درآمدی بل، نقل و حمل کی لاگت اور متعدد اشیا کی قیمتوں پر بالواسطہ اثر پڑ سکتا ہے۔ اسی طرح بلند عالمی شرح سود یا خطرے کا زیادہ پریمیم بیرونی قرض کی ری فنانسنگ کو مہنگا کرسکتا ہے۔
رپورٹ کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ موجودہ جغرافیائی سیاسی غیر یقینی میں معاشی پالیسی کو قیمتوں کے استحکام، مالی نظم اور بیرونی ذخائر کے تحفظ پر توجہ برقرار رکھنا ہوگی۔ آئی ایم ایف نے یہ نہیں کہا کہ تمام خطرات لازماً حقیقت بن جائیں گے؛ اس نے متبادل منفی حالات کی نشاندہی کی ہے جن کے لیے پالیسی سازوں کو تیاری رکھنی چاہیے۔ پاکستان کے لیے آنے والے مہینوں میں مہنگائی، درآمدی توانائی لاگت، زرمبادلہ کے ذخائر اور حکومتی قرض کی لاگت ان خطرات کی شدت جانچنے کے اہم اشاریے ہوں گے۔
