اسلام آباد: زیر تعمیر مہمند ڈیم ہائیڈرو پاور منصوبے کی نظرثانی شدہ لاگت تقریباً 666 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے، جو ابتدائی تخمینے کے مقابلے میں لگ بھگ 115 فیصد اضافہ بنتا ہے۔ خیبر پختونخوا میں دریائے سوات پر تعمیر ہونے والا یہ منصوبہ بجلی پیدا کرنے کے ساتھ پانی ذخیرہ کرنے، سیلابی خطرات میں کمی اور آبپاشی کے لیے بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔

بڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں لاگت بڑھنے کے کئی ممکنہ عوامل ہوتے ہیں، جن میں تعمیراتی مواد کی قیمت، روپے کی قدر میں تبدیلی، درآمدی مشینری، مالیاتی اخراجات، ڈیزائن یا دائرہ کار میں تبدیلی اور تعمیراتی شیڈول میں تاخیر شامل ہوسکتی ہے۔ تاہم ہر اضافے کی درست وجہ متعلقہ سرکاری دستاویزات اور منصوبے کی نظرثانی شدہ منظوری سے ہی طے کی جاسکتی ہے، اس لیے مجموعی اضافے کو کسی ایک عامل سے منسوب کرنا درست نہیں ہوگا۔

مہمند ڈیم پاکستان کے بڑے زیر تعمیر آبی منصوبوں میں شامل ہے۔ منصوبے سے مکمل ہونے کے بعد پن بجلی پیدا کرنے اور پانی کے ذخیرے کی صلاحیت میں اضافہ متوقع ہے۔ پانی کے ذخائر پاکستان کے لیے خاص اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ ملک کو موسمی بارشوں میں بڑے اتار چڑھاؤ، سیلاب اور خشک ادوار کے خطرات کا سامنا رہتا ہے۔ اضافی ذخیرہ آبپاشی کے نظام کو بھی سہارا دے سکتا ہے۔

لاگت میں 115 فیصد کے قریب اضافہ سرکاری ترقیاتی منصوبوں کی مالی منصوبہ بندی پر دباؤ بڑھاتا ہے۔ جب کسی بڑے منصوبے کی قیمت ابتدائی منظوری سے نمایاں طور پر بڑھتی ہے تو حکومت کو اضافی وسائل مختص کرنا پڑتے ہیں، جس سے دوسرے ترقیاتی منصوبوں کے لیے دستیاب بجٹ بھی متاثر ہوسکتا ہے۔ اسی لیے پارلیمانی اور مالیاتی نگرانی میں نظرثانی شدہ لاگت، تکمیل کی تاریخ اور حاصل ہونے والے معاشی فوائد کا تقابل اہم ہوتا ہے۔

منصوبے کی حتمی مالی لاگت تکمیل تک مزید تبدیل بھی ہوسکتی ہے، اس لیے موجودہ 666 ارب روپے کو تازہ نظرثانی شدہ تخمینہ سمجھنا چاہیے، نہ کہ لازماً آخری ادائیگی۔ آئندہ پیش رفت میں تعمیراتی کام کی رفتار، فنڈز کی دستیابی اور مقررہ اہداف کے حصول پر توجہ رہے گی۔ بروقت تکمیل کی صورت میں منصوبے کے توانائی، پانی اور سیلابی انتظام سے متعلق فوائد جلد حاصل ہوسکتے ہیں، جبکہ مزید تاخیر مالی بوجھ میں اضافے کا خطرہ پیدا کرسکتی ہے۔