کراچی: پاکستان میں کپاس کی مقامی پیداوار اور جننگ فیکٹریوں تک فصل کی آمد میں دباؤ نے ٹیکسٹائل صنعت کے لیے خام مال کی دستیابی پر تشویش بڑھا دی ہے۔ کپاس ملک کی سب سے اہم صنعتی فصلوں میں شمار ہوتی ہے اور اس کی مقدار یا معیار میں کمی براہ راست دھاگہ، کپڑا اور تیار ملبوسات بنانے والی صنعت کی لاگت پر اثر ڈال سکتی ہے۔

پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت برآمدی آمدن کا بڑا حصہ فراہم کرتی ہے اور اسے ہر سال بڑی مقدار میں روئی درکار ہوتی ہے۔ جب مقامی فصل صنعت کی مکمل ضرورت پوری نہ کرے تو ملیں بیرون ملک سے روئی درآمد کرتی ہیں۔ درآمد سے مخصوص معیار کی کپاس دستیاب ہوسکتی ہے، لیکن اس کے ساتھ زرمبادلہ، شپنگ، عالمی قیمت اور درآمدی قواعد کے اخراجات بھی شامل ہوتے ہیں۔

کپاس کی پیداوار پر موسم، پانی کی دستیابی، بیج کا معیار، کیڑوں کا حملہ، زرعی مداخل کی قیمت اور کسانوں کے فصل انتخاب جیسے عوامل اثر انداز ہوتے ہیں۔ اگر دوسری فصلوں سے نسبتاً بہتر آمدن متوقع ہو تو کاشتکار کپاس کا رقبہ کم بھی کرسکتے ہیں۔ اسی لیے صرف ایک سیزن کی پیداوار کا مسئلہ حل کرنے کے بجائے بیج، تحقیق، کیڑوں کے کنٹرول اور منڈی کے قابل اعتماد نظام پر طویل مدتی توجہ ضروری سمجھی جاتی ہے۔

ٹیکسٹائل ملوں کے لیے خام کپاس کی قیمت میں اضافہ پیداواری لاگت بڑھا سکتا ہے، خاص طور پر جب توانائی اور مالیاتی اخراجات بھی بلند ہوں۔ دوسری جانب کسان کے لیے مناسب قیمت ضروری ہے تاکہ اگلے سیزن میں کپاس کی کاشت معاشی طور پر پرکشش رہے۔ پالیسی سازوں کو اسی لیے صنعت کے لیے خام مال کی دستیابی اور کاشتکار کے منافع دونوں کے درمیان توازن قائم کرنا پڑتا ہے۔

موجودہ سیزن کی حتمی پیداوار کا درست اندازہ فصل کی مکمل آمد اور سرکاری اعداد و شمار کے بعد ہوگا۔ ابتدائی یا وسط سیزن کے اعداد بعد میں تبدیل ہوسکتے ہیں، اس لیے کسی مخصوص حتمی خسارے کا دعویٰ قبل از وقت ہوگا۔ تاہم موجودہ دباؤ یہ اشارہ دیتا ہے کہ صنعت کو درآمدی ضروریات، مقامی خریداری اور ذخائر کی منصوبہ بندی احتیاط سے کرنا ہوگی تاکہ برآمدی آرڈرز کے لیے خام مال کی فراہمی متاثر نہ ہو۔