اسلام آباد: پاکستان میں 22 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران قلیل مدتی مہنگائی سالانہ بنیاد پر 11.85 فیصد ریکارڈ کی گئی، جبکہ بنیادی اشیائے خوراک خصوصاً آٹے کی قیمتوں نے حساس قیمت اشاریے پر نمایاں دباؤ ڈالا۔ ہفتہ وار حساس قیمت اشاریہ، یا ایس پی آئی، روزمرہ استعمال کی منتخب ضروری اشیا کی قیمتوں میں تبدیلی کو ناپتا ہے اور کم و متوسط آمدن والے گھرانوں پر فوری قیمت دباؤ کی ایک اہم تصویر فراہم کرتا ہے۔
آٹا پاکستانی گھرانوں کے غذائی اخراجات میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے، اس لیے اس کی قیمت میں اضافہ مجموعی گھریلو بجٹ پر نسبتاً زیادہ اثر ڈالتا ہے۔ گندم اور آٹے کی منڈی میں قیمتیں فصل کی دستیابی، سرکاری و نجی ذخائر، نقل و حمل، ملنگ لاگت اور صوبائی سپلائی انتظامات سے متاثر ہوسکتی ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں گندم کی آئندہ فصل کے لیے امدادی قیمت کا اعلان بھی کیا گیا ہے، لیکن نئی فصل آنے سے پہلے موجودہ مارکیٹ کی قیمتیں موجودہ رسد اور طلب کے عوامل کے تابع رہیں گی۔
ہفتہ وار مہنگائی اور ماہانہ صارف قیمت اشاریہ ایک ہی چیز نہیں ہیں۔ ایس پی آئی محدود تعداد میں ضروری اشیا پر زیادہ توجہ دیتا ہے، جبکہ ماہانہ سی پی آئی وسیع تر اشیا اور خدمات کی ٹوکری کو شامل کرتا ہے۔ اسی لیے ہفتہ وار شرح میں تیز تبدیلی لازماً مجموعی ماہانہ مہنگائی میں اسی تناسب سے تبدیلی کی ضمانت نہیں ہوتی، تاہم یہ خوراک اور روزمرہ ضروریات میں فوری دباؤ کی نشاندہی کرسکتی ہے۔
قیمتوں میں اضافہ مختلف آمدنی والے گھرانوں کو مختلف انداز سے متاثر کرتا ہے۔ کم آمدن والے خاندان اپنی آمدن کا نسبتاً بڑا حصہ خوراک، ایندھن اور دیگر بنیادی ضروریات پر خرچ کرتے ہیں، اس لیے آٹا، دالیں، سبزیاں یا توانائی مہنگی ہونے سے ان کی حقیقی قوت خرید زیادہ متاثر ہوتی ہے۔ حکومت کے لیے ایسے ادوار میں سپلائی کی نگرانی، ذخیرہ اندوزی کی روک تھام اور مستحق گھرانوں کے لیے ہدفی سماجی تحفظ اہم پالیسی ذرائع ہوتے ہیں۔
11.85 فیصد کی سالانہ ہفتہ وار شرح ایک مخصوص ہفتے کا اشاریہ ہے اور آنے والے ہفتوں میں قیمتوں کے بدلنے سے اس میں کمی یا اضافہ ہوسکتا ہے۔ مہنگائی کے وسیع رجحان کا جائزہ لیتے وقت ماہانہ سی پی آئی، خوراک و توانائی کی الگ قیمتیں، اجرتوں کی رفتار اور مالی و زر پالیسی کے عوامل کو بھی ساتھ دیکھنا ضروری ہے۔ فی الحال تازہ ایس پی آئی اعداد یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ضروری خوراک کی قیمتیں گھرانوں کے بجٹ پر بدستور نمایاں دباؤ ڈال رہی ہیں۔

