اسلام آباد: سابق وزیراعظم عمران خان کے کزن قاسم زمان اور پاکستان تحریک انصاف کے متعدد وکلا منگل کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل پہنچے، تاہم پی ٹی آئی کے وکیل اویس یونس چوہدری کے مطابق انہیں عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ جیل انتظامیہ کا تفصیلی موقف ڈان کی رپورٹ میں شامل نہیں تھا، اس لیے ملاقات نہ ہونے کی وجہ سے متعلق دعویٰ پارٹی وکیل سے منسوب ہے۔
اویس یونس چوہدری نے ڈان کو بتایا کہ وہ تقریباً دو بجے اڈیالہ جیل پہنچے اور چار بجے کے بعد تک انتظار کیا، لیکن ملاقات نہیں ہو سکی۔ عمران خان 2023 سے قید ہیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے ان کے اہل خانہ، وکلا اور دیگر متعلقہ افراد کے لیے منگل اور جمعرات کو ہفتے میں دو ملاقاتوں کی اجازت دے رکھی ہے۔
عام طور پر عمران خان کی بہنیں علیمہ خان، عظمیٰ خان اور نورین نیازی ہفتہ وار ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل جاتی رہی ہیں۔ تاہم تینوں کو پی ٹی آئی کی 27 ستمبر کی احتجاجی کال سے قبل پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس کے تحت 30 روز کے لیے حراست میں لیا گیا ہے۔ ان کی حراست سے متعلق الگ قانونی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔
پی ٹی آئی وکیل کے مطابق بہنوں کی حراست کے بعد پارٹی نے فیصلہ کیا تھا کہ خاندان کے دوسرے افراد منگل کو جیل جائیں گے تاکہ عدالت کے سامنے یہ ریکارڈ موجود رہے کہ خاندان کی طرف سے ملاقات کی کوشش کی گئی۔ اسی سلسلے میں قاسم زمان اڈیالہ پہنچے۔ چوہدری نے بتایا کہ پارٹی کے وکلا کی ایک فہرست بھی جیل انتظامیہ کو دی گئی تھی، جس میں بیرسٹر گوہر خان، نیاز اللہ نیازی، خالد یوسف چوہدری، راجہ یاسر اور ملک عاطف بشیر اعوان شامل تھے۔
وکیل کے مطابق یہ افراد بھی جیل پہنچے اور انتظامیہ کو اپنی موجودگی سے آگاہ کیا، مگر کئی گھنٹے انتظار کے بعد ملاقات کے بغیر واپس چلے گئے۔ چونکہ اس مخصوص واقعے پر جیل حکام کا تفصیلی جواب رپورٹ میں موجود نہیں، اس لیے یہ واضح نہیں کہ انتظامیہ نے ملاقات کی اجازت کیوں نہیں دی یا اس کے لیے کون سا ضابطہ لاگو کیا گیا۔
اگست میں سپریم کورٹ نے بھی عمران خان کے اہل خانہ سے ملاقات کی اجازت دینے کی ہدایت کی تھی، جب عدالت نے ان کے طبی معائنے سے متعلق عبوری حکم جاری کیا۔ اس کے بعد ان کی بہن نورین کو دو مسلسل ملاقاتوں کی اجازت ملی تھی۔ رپورٹ کے مطابق 25 اگست کے بعد کسی اور خاندانی ملاقات کی اطلاع نہیں ہے۔
ملاقاتوں کا معاملہ اب عدالتی احکامات، جیل قواعد اور فریقین کے متضاد موقف کے تناظر میں اہم قانونی مسئلہ بنا ہوا ہے۔ تازہ واقعے میں تصدیق شدہ امر یہ ہے کہ خاندان کے ایک رکن اور وکلا اڈیالہ جیل پہنچے؛ ملاقات کی اجازت نہ ملنے کی تفصیل پی ٹی آئی کے وکیل نے بیان کی ہے، جبکہ جیل انتظامیہ کی جانب سے اس واقعے کی مکمل وضاحت سامنے آنا باقی ہے۔

