بھارت اور نیپال کے مختلف علاقوں میں مسلسل شدید بارشوں، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں کم از کم 70 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ 27 ستمبر کی رائٹرز رپورٹ کے مطابق بھارت میں 56 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی، جبکہ نیپال میں 14 افراد جان سے گئے اور مزید 11 افراد لاپتا بتائے گئے۔ دونوں ملکوں میں کئی دریا خطرے کی سطح سے اوپر بہہ رہے ہیں اور متاثرہ علاقوں میں امدادی و بحالی کی کارروائیاں جاری ہیں۔

بھارت کی ریاست اتر پردیش میں 25 سے 27 ستمبر کی صبح تک 66.5 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جو اس مدت کی معمول کی مقدار 7.6 ملی میٹر سے کئی گنا زیادہ تھی۔ حکام کے مطابق بارش اور طوفانی حالات سے ایک ہزار سے زیادہ مکانات کو نقصان پہنچا، درجنوں افراد زخمی ہوئے اور متعدد علاقوں میں پانی جمع ہونے سے آمدورفت متاثر ہوئی۔ مرکزی آبی کمیشن نے سات ریاستوں میں 30 مانیٹرنگ اسٹیشنز پر صورتحال کو سنگین قرار دیا، جبکہ گنگا، گنڈک، کوسی، باگمتی اور نرمدا سمیت کئی بڑے دریا خطرے کی سطح سے اوپر پہنچ گئے۔

نیپال میں قومی ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی نے 77 میں سے 49 اضلاع میں ممکنہ فلیش فلڈ کے بارے میں انتباہ جاری کیا۔ حکام نے بتایا کہ کئی علاقوں میں بجلی اور مواصلاتی نظام متاثر ہوا، جبکہ کچھ پہاڑی اضلاع میں سڑکوں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔ راہوگنگا دریا میں طغیانی سے 40 میگاواٹ کے ایک پن بجلی منصوبے کے ڈھانچے اور ٹرانسمیشن لائن کے ٹاورز بھی متاثر ہوئے۔

الگ واقعے میں نیپال کے شمالی منانگ ضلع میں ہملنگ ہمال کے بیس کیمپ کے قریب برفانی تودے کے باعث 10 مقامی کارکنوں کے لاپتا ہونے کی اطلاع دی گئی۔ حکام کے مطابق یہ کارکن غیر ملکی کوہ پیماؤں کے لیے خیمے نصب کر رہے تھے، تاہم حادثے کے وقت غیر ملکی کوہ پیما وہاں موجود نہیں تھے۔ اس واقعے کی تلاش و بچاؤ کارروائی جاری تھی اور لاپتا افراد کی حتمی صورتحال فوری طور پر واضح نہیں ہوئی۔

حالیہ بارشوں نے جنوبی ایشیا میں مون سون کے بعد بھی موجود شدید موسمی خطرات کو نمایاں کیا ہے۔ تاہم کسی ایک واقعے کو براہِ راست موسمیاتی تبدیلی سے جوڑنے کے لیے مخصوص سائنسی attribution درکار ہوتی ہے۔ موجودہ ہنگامی صورتحال میں بنیادی توجہ جانی نقصان کم کرنے، متاثرین کو محفوظ مقامات تک پہنچانے، بجلی و مواصلات بحال کرنے اور مزید سیلاب یا لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے والے علاقوں میں پیشگی انخلا پر مرکوز ہے۔