نئی دہلی: بھارت میں اپوزیشن جماعتوں کے بڑے احتجاجی مارچ سے قبل دارالحکومت دہلی میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ مارچ کی قیادت کانگریس رہنما راہول گاندھی کی جانب سے کیے جانے کی توقع ہے اور مظاہرین چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ تنازع کی بنیاد ووٹر فہرستوں کی وسیع نظرثانی ہے، جسے اپوزیشن حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کے حق میں قرار دیتی ہے، جبکہ الیکشن کمیشن اور بی جے پی ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق مارچ سے پہلے پولیس اہلکار لاٹھیاں اور ڈھالیں لیے احتجاجی مقام کے گرد موجود تھے اور انسدادِ ہنگامہ گاڑیاں بھی تعینات کی گئی تھیں۔ دہلی ٹریفک پولیس نے شہریوں کو ممکنہ راستہ تبدیلیوں اور ٹریفک پابندیوں سے خبردار کیا۔ اپوزیشن نے وسطی دہلی سے رام لیلا میدان تک تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر مارچ کا اعلان کیا ہے اور منتظمین نے بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت کی توقع ظاہر کی ہے۔
گزشتہ ماہ سے اپوزیشن جماعتیں، طلبہ تنظیمیں اور نوجوانوں کے بعض گروپ تقریباً روزانہ مظاہرے کر رہے ہیں۔ ان کا مرکزی مطالبہ انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے عمل پر جواب دہی اور چیف الیکشن کمشنر کا استعفیٰ ہے۔ تنازع اس وقت مزید نمایاں ہوا جب بھارتی میڈیا میں رپورٹ ہوا کہ الیکشن کمیشن کے اندر بھی بعض اعلیٰ حکام نے رجسٹریشن کے طریقۂ کار اور ڈیجیٹل نظام سے متعلق تحفظات اٹھائے تھے۔
رپورٹ کے مطابق نظرثانی کے عمل میں 13 کروڑ سے زیادہ نام ووٹر فہرستوں سے خارج ہوئے۔ ان میں وفات پانے والے، دوسری جگہ منتقل ہونے والے اور ایسے افراد شامل تھے جن کا سراغ نہ مل سکا۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ حذف کیے گئے ناموں کا اثر مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں پر غیر متناسب طور پر پڑا، جو عمومی طور پر بی جے پی کے کم حامی سمجھے جاتے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے جانبداری کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ غلطی سے خارج ہونے والے اہل ووٹر دوبارہ اندراج کرا سکتے ہیں۔
بی جے پی نے اپوزیشن پر جائز انتخابی عمل کو بلاجواز مشکوک بنا کر جمہوری اداروں کو کمزور کرنے کا الزام لگایا ہے۔ اس کے برعکس اپوزیشن اسے انتخابی شفافیت اور حقِ رائے دہی کا مسئلہ قرار دے رہی ہے۔ دونوں فریقوں کے دعوے سیاسی طور پر متنازع ہیں اور ووٹر فہرستوں میں تبدیلی کے اثرات کی آزادانہ، حلقہ وار جانچ ہی ان کے عملی نتائج کی زیادہ واضح تصویر دے سکتی ہے۔
مظاہرے ایسے وقت ہو رہے ہیں جب بھارت میں اگلے عام انتخابات 2029 میں متوقع ہیں اور وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت فی الحال پارلیمانی طور پر مستحکم ہے۔ تاہم مسلسل نوجوان اور اپوزیشن احتجاج نے انتخابی انتظامیہ، ووٹر رجسٹریشن اور ادارہ جاتی اعتماد کو قومی سیاسی بحث کا اہم موضوع بنا دیا ہے۔

