ڈھاکا: بنگلہ دیش کی حکومت نے گارمنٹ صنعت کے کارکنوں کی اجرت کا ازسرنو جائزہ لینے کے لیے چھ رکنی ویج بورڈ تشکیل دے دیا ہے، لیکن تنخواہوں میں نمایاں اضافے کا مطالبہ کرنے والے کارکنوں کے احتجاج اتوار کو بھی جاری رہے۔ مزدور تنظیمیں کم از کم ماہانہ اجرت 30 ہزار ٹکا، تقریباً 245 امریکی ڈالر، مقرر کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں، جبکہ موجودہ کم از کم اجرت 12,500 ٹکا ہے۔

وزیر محنت و روزگار عارف الحق چوہدری کے مطابق بورڈ کارکنوں کے نمائندوں اور صنعت کے رہنماؤں سے مشاورت کے بعد قائم کیا گیا ہے۔ حکومت نے ملازمین سے کام پر واپس آنے کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ اجرت کے مسئلے کو ادارہ جاتی طریقے سے حل کیا جائے گا۔ کارکنوں کا کہنا ہے کہ خوراک، رہائش، ٹرانسپورٹ اور صحت کے بڑھتے اخراجات نے موجودہ اجرت کی قوت خرید کو شدید متاثر کیا ہے۔

ویج بورڈ کے اعلان کے باوجود ڈھاکا میں ہزاروں کارکن سڑکوں پر نکلے۔ پولیس کے مطابق ایک مصروف چوراہے کو بند کرنے والے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کینن استعمال کی گئی، جبکہ بعض مظاہرین نے پولیس پر اینٹیں پھینکیں۔ دارالحکومت کے مضافات میں واقع صنعتی علاقے غازی پور میں بھی سینکڑوں کارکنوں نے ایک اہم شاہراہ بند کی، جس سے آمدورفت متاثر ہوئی۔

غازی پور صنعتی پولیس کے ایک سینئر افسر کے مطابق احتجاج کے باعث 25 سے 30 فیکٹریوں کو بند کرنا پڑا اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے بارڈر گارڈ بنگلہ دیش کے اہلکار بھی تعینات کیے گئے۔ اس سے ایک روز پہلے اشولیہ، جو ملک کے بڑے گارمنٹ مراکز میں شمار ہوتا ہے، میں بھی متعدد کارخانوں نے مزدور احتجاج کے باعث سرگرمیاں معطل کی تھیں۔

بنگلہ دیش کی تیار ملبوسات کی صنعت ملکی معیشت کا بنیادی ستون ہے۔ یہ شعبہ تقریباً 40 لاکھ کارکنوں کو روزگار دیتا ہے، ملک کی برآمدی آمدن کا 80 فیصد سے زیادہ پیدا کرتا ہے اور مجموعی قومی پیداوار میں بھی نمایاں حصہ رکھتا ہے۔ اسی لیے طویل احتجاج یا بڑے پیمانے پر فیکٹری بندش سے نہ صرف مقامی روزگار بلکہ بین الاقوامی خریداروں کو برآمدی آرڈرز کی ترسیل بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

حکومت نے خبردار کیا ہے کہ مسلسل رکاوٹیں برآمدی کھیپوں اور بین الاقوامی ادائیگیوں میں تاخیر پیدا کر سکتی ہیں۔ دوسری جانب صنعت کار بڑھتی پیداواری لاگت، گیس اور بجلی کی وقفے وقفے سے قلت اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی سے پیدا ہونے والی توانائی کی غیر یقینی صورتحال کو اپنی مشکلات میں شمار کرتے ہیں۔ ویج بورڈ کی تشکیل مذاکرات کا باضابطہ راستہ فراہم کرتی ہے، لیکن اجرت کی حتمی سطح اور احتجاج کے خاتمے کا انحصار حکومت، مالکان اور کارکنوں کے درمیان آئندہ بات چیت پر ہوگا۔