نئی دہلی: بھارت میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے بڑے پلیٹ فارم یونیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس، یعنی یو پی آئی، کے ذریعے ہونے والی بڑی ادائیگیوں پر تاجروں سے فیس وصول کرنے کے نئے نظام کا نفاذ کچھ مدت کے لیے مؤخر ہونے کا امکان سامنے آیا ہے۔ آٹھ اکتوبر کو رائٹرز نے ایک متعلقہ ریگولیٹری عہدیدار اور صنعت کے ایک ذمہ دار شخص کے حوالے سے اطلاع دی کہ اس معاملے پر بات چیت جاری ہے اور حتمی فیصلہ ابھی نہیں کیا گیا۔

بھارت میں گزشتہ ماہ اعلان کیا گیا تھا کہ دو ہزار بھارتی روپے سے زیادہ مالیت کی یو پی آئی ادائیگیوں پر تاجروں سے 0.4 فیصد فیس وصول کی جائے گی۔ اس منصوبے کے ذریعے چھ برس سے زیادہ عرصے سے جاری صفر فیس کی پالیسی میں تبدیلی آنا تھی۔ مجوزہ فیس پر بعض پرچون فروشوں اور مالیاتی شعبے سے وابستہ حلقوں نے اعتراضات اٹھائے تھے۔

فیس کے نفاذ کے لیے پندرہ اکتوبر کی تاریخ مقرر تھی، جو بھارت میں تہواروں کی خریداری کے مصروف موسم کے آغاز کے قریب آتی ہے۔ رائٹرز کے ذرائع کے مطابق ممکنہ تاخیر سے ادائیگیوں کی کمپنیوں کو اپنے تکنیکی نظام درست کرنے اور تاجروں کو نئے اخراجات کے انتظام کے لیے مہلت مل سکتی ہے۔ ذرائع نے یہ بھی کہا کہ اس اقدام سے بعض کمپنیوں کو اخراجات براہ راست صارفین پر منتقل کرنے سے گریز کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق نیشنل پیمنٹس کارپوریشن آف انڈیا، جو یو پی آئی نظام چلاتی ہے، نے تاخیر کے بارے میں حتمی فیصلہ نہیں کیا تھا۔ صنعت سے وابستہ ایک ذریعے نے امکان ظاہر کیا کہ نئی فیس جنوری سے نافذ ہو سکتی ہے، مگر یہ محض زیر غور مدت ہے اور کسی باقاعدہ نوٹیفکیشن کا متبادل نہیں۔ ادارے کو بھیجے گئے سوال کا فوری جواب دستیاب نہیں تھا۔

یو پی آئی بھارت میں چھوٹے روزمرہ لین دین سے لے کر بڑی خریداریوں تک استعمال ہوتا ہے اور رائٹرز کے مطابق 50 کروڑ سے زیادہ افراد اسے استعمال کرتے ہیں۔ وال مارٹ کی فون پے اور الفابیٹ کی گوگل پے اگست میں لین دین کی مالیت کے لحاظ سے یو پی آئی مارکیٹ کے تقریباً 80 فیصد حصے کی حامل تھیں۔ اس وسیع استعمال کے باعث فیس سے متعلق کسی بھی تبدیلی کا اثر تاجروں، ادائیگیوں کے اداروں اور صارفین پر پڑ سکتا ہے۔

ممکنہ تاخیر کی رپورٹ کے بعد متعلقہ بھارتی کمپنیوں کے حصص میں بھی کمی ہوئی۔ رائٹرز کے مطابق پے ٹی ایم اور موبی کوئک کے حصص بالترتیب تقریباً 5.5 اور سات فیصد نیچے آئے جبکہ پائن لیبز میں تین فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ تاہم حصص کی وقتی تبدیلی اس بات کی تصدیق نہیں کرتی کہ مجوزہ فیس کی نئی تاریخ حتمی طور پر بدل دی گئی ہے۔ اس خبر کا بنیادی نتیجہ یہ ہے کہ فیس مؤخر کرنے پر غور کیا جا رہا ہے، نہ کہ حکومتی فیصلہ نافذ ہو چکا ہے۔