ایمسٹرڈیم: جدید سیمی کنڈکٹر بنانے والی مشینوں کے شعبے میں سرگرم ڈچ کمپنی اے ایس ایم ایل اور اس کی جرمن آپٹکس شراکت دار کارل زائس کے انجینئروں نے ایک نئی ٹیکنالوجی کے امکانات پیش کیے ہیں جو تقریباً ایک دہائی میں انتہائی باریک برقی سرکٹس تیار کرنے کے طریقے کو آگے بڑھا سکتی ہے۔ اس منصوبے کو ہائپر این اے کا نام دیا گیا ہے۔ آٹھ اکتوبر کو رائٹرز کے مطابق یہ تفصیلات سائنسی ماہرین کے جائزے سے گزرنے والے ایک تحقیقی مقالے میں سامنے آئیں۔
تحقیقی مقالے کے مطابق مجوزہ مشین اے ایس ایم ایل کے موجودہ جدید ترین ہائی این اے نظام کے مقابلے میں مزید باریک سرکٹ خصوصیات چھاپ سکے گی۔ انجینئروں نے پانچ نینو میٹر تک چھوٹے نقش تیار کرنے کے امکان کا ذکر کیا، جو موجودہ ہائی این اے نظام کی صلاحیت کے مقابلے میں ایک تہائی سے بھی زیادہ چھوٹے ہوں گے۔ ایسے نقش بنانے کی صلاحیت سیمی کنڈکٹرز کی کارکردگی اور توانائی کے استعمال کو بہتر بنانے کے لیے اہم سمجھی جاتی ہے۔
اے ایس ایم ایل نے نئی ٹیکنالوجی پر ابتدائی ترقیاتی کام شروع کر دیا ہے، مگر کمپنی نے ابھی ہائپر این اے مشینوں کی تجارتی پیداوار کا عزم یا کوئی یقینی تاریخ ظاہر نہیں کی۔ اس لیے دس سال کی مدت کو انجینئروں کے تحقیقی امکان کے طور پر دیکھنا چاہیے، نہ کہ مارکیٹ میں مصنوعات پہنچنے کی مصدقہ تاریخ کے طور پر۔ رائٹرز کے مطابق کمپنی نے اس بارے میں فوری الگ تبصرہ نہیں کیا۔
اے ایس ایم ایل موجودہ انتہائی بالائے بنفشی روشنی، یعنی ای یو وی، استعمال کرنے والی لیتھوگرافی مشینوں کا اہم اور منفرد فراہم کنندہ ہے۔ مصنوعی ذہانت کے جدید چپس سمیت بہت چھوٹے سیمی کنڈکٹر سرکٹس بنانے میں یہ آلات مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔ ہائپر این اے سے متوقع فائدہ یہ ہے کہ موجودہ ٹیکنالوجی کے بعض اہم حصے دوبارہ استعمال کرتے ہوئے چھوٹے سرکٹس کی طرف مزید پیش رفت ہو سکے گی۔
رپورٹ کے مطابق زائس پہلے ہی اتنی درستگی والے آئینے بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے جنہیں مجوزہ نظام میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تحقیقی مقالے میں بتایا گیا کہ نئی مشین کا حجم موجودہ ہائی این اے آلات سے صرف محدود حد تک زیادہ ہو سکتا ہے، جبکہ موجودہ روشنی کا ذریعہ برقرار رکھا جا سکتا ہے۔ اس کے باوجود سائنسی اور انجینئرنگ مسائل حل کرنا باقی ہیں، اور آگے چل کر اس سے بھی چھوٹے نقشوں کے لیے روشنی کی مختلف طول موج کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
رائٹرز کے مطابق انٹیل نے ہائی این اے ٹیکنالوجی پیداوار میں استعمال کرنا شروع کی ہے جبکہ سام سنگ اور ایس کے ہائنکس نے 2028 اور ٹی ایس ایم سی نے 2030 میں اس ٹیکنالوجی کی طرف بڑھنے کے ارادے ظاہر کیے ہیں۔ یہ الگ کمپنی منصوبے ہیں، نئی ہائپر این اے مشین کی دستیابی کا ثبوت نہیں۔ فی الحال اہم خبر یہ ہے کہ اگلی نسل کی چپ سازی کے امکانات سائنسی تحقیق کے مرحلے میں زیادہ واضح ہوئے ہیں، مگر پیداوار اور عملی نفاذ مستقبل کے فیصلوں سے مشروط ہیں۔

