میڈرڈ: اسپین کی حکومت نے تیزی سے بڑھتے ہوئے ڈیٹا سینٹرز کے شعبے میں پانی اور بجلی کے استعمال سے متعلق سخت نگرانی کے قواعد نافذ کرنے کی کوشش جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ روئٹرز کے مطابق ملک کے وزیر ڈیجیٹل تبدیلی اوسکار لوپیز نے آٹھ اکتوبر 2026 کو بتایا کہ حکومت 29 نومبر کو متوقع قبل از وقت پارلیمانی انتخابات سے پہلے اس سلسلے میں مجوزہ حکم نامے پر پیش رفت چاہتی ہے۔
اسپین میں بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی ڈیٹا سینٹر سرمایہ کاری نے توانائی اور پانی کے استعمال پر بحث تیز کردی ہے۔ ایمیزون ویب سروسز اور مائیکروسافٹ کی سرمایہ کاری کا خاص مرکز ملک کا شمال مشرقی علاقہ آراگون ہے۔ ڈیٹا سینٹرز میں بڑے پیمانے پر کمپیوٹنگ اور ڈیجیٹل خدمات کے لیے بجلی درکار ہوتی ہے، جبکہ بعض تکنیکی نظاموں میں ٹھنڈک کے لیے پانی بھی استعمال ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے حکومت سرمایہ کاری کو برقرار رکھنے اور مقامی وسائل پر دباؤ کم کرنے کے درمیان توازن قائم کرنا چاہتی ہے۔
حکومت پہلے ہی پانی اور بجلی کے استعمال کے حوالے سے نسبتاً سخت قواعد کا مسودہ تیار کرچکی ہے۔ وزیر اوسکار لوپیز نے مصنوعی ذہانت سے متعلق ایک کانفرنس میں کہا کہ حکومت اس حکم نامے کے ساتھ آگے بڑھنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق وزارتیں عوامی مشاورت کے دوران موصول ہونے والی تجاویز کا جائزہ لے رہی ہیں اور مشترکہ حکومتی مؤقف پر کام جاری ہے۔ ان تفصیلات سے واضح ہے کہ اعلان سیاسی ارادے اور ضابطے کی تیاری سے متعلق ہے، جبکہ حتمی متن اور نفاذ کا مرحلہ ابھی الگ ہے۔
لوپیز نے کہا کہ اس شعبے کو منظم کرنے والے حکم نامے کے لیے پارلیمنٹ کی منظوری درکار نہیں ہوگی۔ یہ پہلو حکومت کو انتخابی عمل سے پہلے اقدامات آگے بڑھانے کا امکان فراہم کرتا ہے، تاہم قانونی طریقہ کار اور مشاورت کی تکمیل ضروری رہتی ہے۔
روئٹرز کے مطابق ایمیزون ویب سروسز اور مائیکروسافٹ دونوں نے کہا ہے کہ آراگون میں ان کے منصوبے بدستور برقرار ہیں۔ دونوں کمپنیوں نے حکومت سے درخواست کی ہے کہ وہ سرمایہ کاری کے طویل مدتی فیصلوں کے لیے قانونی یقین، واضح ضابطے اور پیش گوئی کے قابل پالیسی ماحول کو یقینی بنائے۔ ان کمپنیوں کا مؤقف یہ ظاہر کرتا ہے کہ ماحولیات اور توانائی کے تقاضوں کے ساتھ سرمایہ کاروں کی منصوبہ بندی بھی اہم مسئلہ ہے۔
اسپین کا یہ اقدام مصنوعی ذہانت اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کی بڑھتی ضروریات کے ساتھ توانائی اور آبی وسائل کے پائیدار استعمال کے سوال کو سامنے لاتا ہے۔ آئندہ تبدیلیوں کی حقیقی نوعیت حکم نامے کے حتمی متن اور اس پر عمل درآمد کے طریقے سے واضح ہوگی۔
