میلان: اٹلی کی وزارت خارجہ نے آٹھ اکتوبر 2026 کو تصدیق کی ہے کہ اس کی سرکاری ویب سائٹ کو سائبر حملے کا سامنا کرنا پڑا، تاہم حکام کے مطابق سائبر سکیورٹی نظام نے اس خطرے کو مؤثر طریقے سے روک لیا۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق وزارت نے اپنے بیان میں کہا کہ حملے کے نتیجے میں معمول کی خدمات میں کوئی تعطل پیدا نہیں ہوا۔ اس معلومات کی بنیاد پر سرکاری ویب سائٹ پر حملے کی کوشش کی تصدیق کی جا سکتی ہے، لیکن بڑے پیمانے پر کامیاب دراندازی یا معلومات کی چوری کا دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔

وزارت خارجہ کے مطابق صورت حال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔ حکام یہ بھی جانچ رہے ہیں کہ آیا اٹلی کے بیرون ملک سفارتی اور قونصلر مشنز کی ویب سائٹس کو اسی نوعیت کے حملوں کا نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وزارت صرف مرکزی ویب سائٹ کے واقعے تک اپنی تفتیش محدود نہیں رکھنا چاہتی بلکہ بیرونی نمائندگی سے متعلق آن لائن نظاموں کے تحفظ کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔

روئٹرز کی رپورٹ کے وقت وزارت نے حملے کے کسی مشتبہ فرد، گروہ یا ریاست کا نام ظاہر نہیں کیا تھا۔ اس لیے حملہ کسی مخصوص حکومت یا ہیکنگ گروہ سے منسوب کرنا دستیاب مصدقہ معلومات سے آگے جانا ہوگا۔ اسی طرح وزارت کے بیان میں کسی خفیہ ڈیٹا بیس کے متاثر ہونے یا شہریوں کے ذاتی کوائف کے افشا ہونے کی تصدیق بھی نہیں دی گئی۔

سرکاری ویب سائٹس ملکی اور بیرون ملک مقیم شہریوں کے لیے معلومات اور مختلف خدمات تک رسائی کا اہم ذریعہ ہوتی ہیں۔ وزارت خارجہ کے آن لائن نظاموں کے بارے میں حفاظتی اطلاع اس لیے بھی اہم ہے کہ قونصلر معاملات، سرکاری اعلانات اور سفارتی معلومات کے لیے انٹرنیٹ کا استعمال معمول کا حصہ ہے۔ تاہم اطالوی حکام نے اس واقعے کے بارے میں واضح طور پر بتایا ہے کہ موجودہ خدمات متاثر نہیں ہوئیں، لہٰذا صارفین میں غیر ضروری خوف پیدا کرنے والے مفروضوں سے گریز ضروری ہے۔

سائبر حملوں کے واقعات میں واقعے کی ابتدائی دریافت، حفاظتی نظام کا ردعمل اور بعد ازاں تفتیش الگ مراحل ہوتے ہیں۔ اٹلی کی وزارت خارجہ نے پہلے دو پہلوؤں کے بارے میں معلومات دی ہیں، جبکہ دیگر ویب سائٹس پر ممکنہ حملوں کی جانچ جاری ہے۔ حملے کے تکنیکی طریقے، اس کی ذمہ داری یا مستقبل میں حفاظتی اقدامات کی مزید تفصیل سرکاری طور پر سامنے آنے پر ہی کسی نئے نتیجے تک پہنچا جا سکے گا۔

اس وقت دستیاب مرکزی حقیقت یہی ہے کہ وزارت خارجہ نے حملہ رپورٹ کیا ہے، سکیورٹی نظام کے ذریعے اسے محدود کرنے کا بتایا ہے اور سفارتی مشنز کی ویب سائٹس سے متعلق اضافی جائزہ شروع کیا ہے۔