دبئی: بھارتی خواتین کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ امول مزومدار نے تصدیق کی ہے کہ ایشیا کپ جیتنے کے بعد ٹیم نے ایشین کرکٹ کونسل کے صدر محسن نقوی سے ٹرافی وصول نہ کرنے کا فیصلہ بھارتی کرکٹ بورڈ کی ہدایت پر کیا۔ جیو نیوز کے مطابق مزومدار نے فائنل کے بعد پریس کانفرنس میں کہا کہ کھلاڑیوں نے بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا (بی سی سی آئی) کے فیصلے پر عمل کیا اور انہیں ٹرافی وصول نہ کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔

مزومدار کا کہنا تھا کہ ٹیم خود کو ایشیا کی چیمپئن سمجھتی ہے، تاہم ٹرافی کب اور کس طرح وصول کی جائے گی اس بارے میں انہیں کوئی اطلاع نہیں۔ عام طور پر ٹورنامنٹ کے اختتامی مرحلے میں اے سی سی کا صدر فاتح ٹیم کو ٹرافی پیش کرتا ہے، اس لیے بھارتی ٹیم کے اس اقدام نے روایتی تقریب کو سیاسی اور انتظامی تنازع میں بدل دیا۔

رپورٹ کے مطابق بی سی سی آئی کے نائب صدر راجیو شکلا بھی دبئی کرکٹ اسٹیڈیم میں موجود تھے۔ واقعات سے واقف افراد کے حوالے سے بتایا گیا کہ بھارتی کھلاڑیوں کو واضح ہدایات تھیں کہ وہ محسن نقوی سے ٹرافی وصول کرنے کے لیے اسٹیج پر نہ جائیں۔ ان دعووں کی نوعیت ذرائع پر مبنی ہے، تاہم کوچ مزومدار کی جانب سے بی سی سی آئی کی ہدایت کی تصدیق اس فیصلے کے بنیادی پس منظر کو واضح کرتی ہے۔

یہ واقعہ بھارت اور پاکستان کے درمیان کھیلوں میں جاری سیاسی کشیدگی کے وسیع تر تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ 2025 کے مردوں کے ایشیا کپ فائنل کے بعد بھی بھارتی ٹیم نے محسن نقوی سے ٹرافی وصول نہیں کی تھی، جبکہ دسمبر 2025 میں بھارتی انڈر 19 ٹیم نے پاکستان سے فائنل ہارنے کے بعد اپنے رنرز اپ میڈلز بھی ان سے لینے سے گریز کیا تھا۔

تازہ واقعے میں کسی کھیل کے نتیجے پر تنازع نہیں ہے۔ بھارتی ٹیم نے فائنل جیت کر ٹائٹل حاصل کیا، اختلاف صرف ٹرافی پیش کرنے کی رسمی تقریب سے متعلق ہے۔ اس لیے ٹورنامنٹ کے چیمپئن کا درجہ یا میچ کا نتیجہ متاثر نہیں ہوا۔ البتہ اس طرز کے فیصلے ایشین کرکٹ کونسل کی تقریبات اور بھارت پاکستان کرکٹ تعلقات میں سیاسی اثرات پر نئی بحث کا سبب بن رہے ہیں۔

ایشین کرکٹ کونسل یا بی سی سی آئی کی جانب سے ٹرافی کی آئندہ حوالگی کے طریقہ کار کے بارے میں کوئی حتمی اعلان سامنے نہیں آیا۔ کوچ کے بیان کے مطابق بھارتی ٹیم کو بھی فی الحال معلوم نہیں کہ ٹرافی کب ملے گی۔ اگر متعلقہ بورڈز کوئی باضابطہ انتظام طے کرتے ہیں تو معاملے کی اگلی پیش رفت اسی کے مطابق واضح ہو گی۔