اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے اسلام آباد میں "دی انوویشن ہائیو" کا افتتاح کیا ہے، جسے یونائیٹڈ اسٹیٹس ایجوکیشنل فاؤنڈیشن اِن پاکستان (USEFP) نے قائم کیا ہے۔ اس پلیٹ فارم کا اعلان پاکستانی اسٹارٹ اپس، کاروباری افراد اور ٹیکنالوجی سے وابستہ نوجوانوں کو امریکی مینٹورز، سرمایہ کاروں اور کاروباری نیٹ ورکس سے براہِ راست جوڑنے کے مقصد کے ساتھ کیا گیا ہے۔

افتتاحی تقریب میں امریکی سفارت خانے کی ناظم الامور نٹالی بیکر، USEFP کے نمائندے، ٹیکنالوجی شعبے سے وابستہ شخصیات اور کاروباری ماہرین شریک ہوئے۔ منتظمین کے مطابق انوویشن ہائیو اپنے پہلے سال میں 250 سے زیادہ امریکی مینٹورز کو پاکستان کے مختلف مراحل پر موجود کاروباری افراد کے ساتھ منسلک کرنے کا ہدف رکھتا ہے۔ امریکی حکام نے یہ بھی کہا کہ منتخب پاکستانی کاروباری منصوبوں کی معاونت کے لیے سرمایہ کاری اور رہنمائی کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔

شزا فاطمہ خواجہ نے تقریب میں کہا کہ یہ مرکز محض ایک دفتر یا عمارت نہیں بلکہ ایسا مستقل رابطہ پلیٹ فارم ہوگا جس کے ذریعے پاکستانی کاروباری افراد ملک سے باہر جائے بغیر امریکی مارکیٹ، سرمایہ کاروں، ماہرین اور سابق طلبہ کے نیٹ ورک تک رسائی حاصل کر سکیں گے۔ یہ بیان حکومت کے ڈیجیٹل معیشت اور برآمدات بڑھانے کے وسیع تر پروگرام کے تناظر میں دیا گیا۔

وفاقی وزیر نے پاکستان اور امریکا کے تجارتی تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مالی سال 2025-26 میں امریکا پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی رہا اور پاکستان کی مجموعی برآمدات کا تقریباً پانچواں حصہ وہاں گیا۔ انہوں نے 2025 میں دوطرفہ تجارت آٹھ ارب ڈالر سے زیادہ رہنے کا بھی ذکر کیا۔ یہ اعداد و شمار تقریب میں حکومتی موقف کے طور پر پیش کیے گئے۔

وزیر آئی ٹی کے مطابق پاکستان میں وینچر کیپیٹل سے مالی معاونت حاصل کرنے والے اسٹارٹ اپس کی مجموعی انٹرپرائز ویلیو چار ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ 2025 میں مقامی اسٹارٹ اپس نے 74.2 ملین ڈالر کی فنڈنگ حاصل کی۔ انہوں نے خواتین کی جانب سے قائم یا مشترکہ طور پر قائم اسٹارٹ اپس کی فنڈنگ میں بھی اضافہ بیان کیا، جو 2024 کے 5.5 ملین ڈالر سے بڑھ کر 2025 میں 10.1 ملین ڈالر ہوئی۔

تقریب میں وزارتِ آئی ٹی کے موجودہ پروگراموں کا بھی ذکر کیا گیا۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق نو نیشنل انکیوبیشن سینٹرز کے ذریعے 2,350 سے زیادہ اسٹارٹ اپس کی معاونت کی گئی ہے اور 185,000 سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ اسی طرح پاکستان اسٹارٹ اپ فنڈ کے تحت اہل منصوبوں کو حکومتی ایکویٹی لیے بغیر فنڈنگ کا حصہ فراہم کرنے اور خصوصی ٹیکنالوجی زونز میں ٹیکنالوجی و مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں کے لیے طویل مدتی ٹیکس و کسٹمز مراعات کا ذکر بھی کیا گیا۔

انوویشن ہائیو کی عملی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ کتنے کاروباری منصوبے مستقل طور پر امریکی مارکیٹ، سرمایہ کاروں اور مینٹورز کے ساتھ تجارتی روابط میں تبدیل ہوتے ہیں۔ فی الحال پلیٹ فارم کو دونوں ممالک کے درمیان ٹیکنالوجی، کاروباری تربیت اور سرمایہ کاری کے رابطے بڑھانے کے ایک نئے ادارہ جاتی ذریعے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔