کراچی: ایک جوڈیشل مجسٹریٹ نے کریڈٹ کارڈ ڈیٹا چوری اور مبینہ بین الاقوامی مالی فراڈ نیٹ ورک سے متعلق تحقیقات میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کو نو ملزمان کی تحویل مزید پوچھ گچھ کے لیے 10 نومبر تک دے دی ہے۔ عدالت نے زیر حراست افراد، جن میں کال سینٹر کا مالک بھی شامل بتایا گیا ہے، کی ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ آئندہ سماعت تک محفوظ رکھا ہے۔

یہ مقدمہ 4 نومبر کو شاہراہ فیصل پر ایک کال سینٹر کے خلاف این سی سی آئی اے کی کارروائی سے متعلق ہے۔ ایجنسی نے اس وقت دعویٰ کیا تھا کہ چھاپہ ایک جاری انکوائری کے سلسلے میں مارا گیا اور مجموعی طور پر 273 افراد کو حراست میں لیا گیا۔ ایجنسی کے مطابق معاملہ کریڈٹ کارڈ ڈیٹا کی مبینہ چوری اور ایک مبینہ بین الاقوامی مالی فراڈ نیٹ ورک سے جڑا ہوا ہے۔ یہ الزامات تفتیشی ادارے کے دعوے ہیں اور زیر حراست افراد کے خلاف جرم کا حتمی تعین عدالت میں شواہد اور قانونی کارروائی کے بعد ہوگا۔

عدالتی کارروائی میں اب تک 264 گرفتار افراد کو ضمانت دی جا چکی ہے۔ ان میں 98 خواتین اور 58 کم عمر لڑکے بھی شامل ہیں، جنہیں juvenile suspects ہونے کی بنیاد سمیت قانونی نکات کے تحت ریلیف ملا۔ نو افراد بدستور تفتیشی تحویل کے مرحلے میں ہیں اور عدالت نے این سی سی آئی اے کو ان سے مزید پوچھ گچھ کے لیے محدود مدت دی ہے۔

کیس میں ریمانڈ کی توسیع کو سزا یا جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں سمجھا جا سکتا۔ ریمانڈ کا مقصد تفتیشی ادارے کو قانون کے دائرے میں مزید تحقیقات کی اجازت دینا ہے، جبکہ ملزمان کی ضمانت اور مقدمے کے میرٹ سے متعلق فیصلے الگ عدالتی مراحل ہیں۔ اسی طرح 264 افراد کو ضمانت ملنے کا مطلب بھی مقدمے کے تمام حقائق پر حتمی فیصلہ نہیں بلکہ ان افراد کی حراست سے متعلق عدالتی حکم ہے۔

سائبر کرائم اور مالی فراڈ کے مقدمات میں ڈیجیٹل آلات، اکاؤنٹس، کال ریکارڈ، مالی لین دین اور مبینہ طور پر حاصل کیے گئے صارفین کے ڈیٹا کی فرانزک جانچ اہم ہو سکتی ہے۔ تاہم موجودہ رپورٹ میں کسی ایسے تکنیکی نتیجے کو شامل نہیں کیا جا رہا جو عدالت یا تفتیشی ادارے نے باضابطہ طور پر ثابت شدہ شکل میں جاری نہ کیا ہو۔

اگلی اہم پیش رفت 10 نومبر کی سماعت میں متوقع ہے، جب موجودہ ریمانڈ کی مدت ختم ہوگی اور عدالت ضمانت کی درخواستوں اور تفتیشی پیش رفت کا جائزہ لے سکتی ہے۔ اس وقت تک نو افراد ملزم ہیں، مجرم قرار نہیں دیے گئے، اور مبینہ بین الاقوامی فراڈ نیٹ ورک سے متعلق دعووں کی قانونی جانچ جاری ہے۔