راولپنڈی: راولپنڈی پولیس نے چیک پوسٹوں اور ناکوں پر تعینات اہلکاروں کے لیے باڈی وورن کیمروں کا استعمال شروع کیا ہے، جس کا مقصد پولیس اور شہریوں کے درمیان ہونے والی گفتگو اور کارروائی کا قابلِ جائزہ ریکارڈ بنانا ہے۔ 7 نومبر کی مقامی رپورٹ کے مطابق اس اقدام کو نگرانی، احتساب اور ڈیوٹی کے دوران پیش آنے والے تنازعات کے بہتر جائزے سے جوڑا گیا ہے۔
باڈی کیمرہ اہلکار کی وردی پر نصب چھوٹا ریکارڈنگ آلہ ہوتا ہے جو ڈیوٹی کے دوران ویڈیو اور، نظام کی ترتیب کے مطابق، آواز محفوظ کر سکتا ہے۔ پولیسنگ میں اس ٹیکنالوجی کا بنیادی فائدہ یہ ہے کہ کسی شکایت، مبینہ بدسلوکی یا متنازع کارروائی کی صورت میں محض فریقین کے بیانات کے بجائے ریکارڈ شدہ مواد بھی انتظامی جائزے کا حصہ بن سکتا ہے۔ اس سے اہلکاروں کے طرز عمل کی نگرانی کے ساتھ ان پر لگنے والے غلط الزامات کی جانچ میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
راولپنڈی جیسے بڑے شہری ضلع میں ناکوں اور چیک پوسٹوں پر روزانہ بڑی تعداد میں شہری پولیس سے رابطے میں آتے ہیں۔ باڈی کیمروں کا مؤثر استعمال اس بات پر منحصر ہوگا کہ ریکارڈنگ کب لازمی ہے، ڈیٹا کتنی مدت محفوظ کیا جاتا ہے، کس افسر کو اس تک رسائی حاصل ہوتی ہے اور شہریوں کی نجی معلومات کے تحفظ کے لیے کیا قواعد مقرر کیے جاتے ہیں۔ صرف کیمرہ فراہم کرنا شفافیت کی ضمانت نہیں؛ واضح آپریٹنگ طریقہ کار اور نگرانی بھی ضروری ہے۔
دستیاب اطلاع سے یہ واضح نہیں کہ پہلے مرحلے میں کتنے کیمرے تقسیم کیے گئے ہیں یا شہر کی تمام چیک پوسٹیں فوری طور پر اس نظام میں شامل ہیں۔ اس لیے اقدام کو پورے ضلع میں مکمل نفاذ کے بجائے متعارف کرائے گئے انتظامی اور تکنیکی نظام کے طور پر بیان کرنا زیادہ درست ہے۔ پولیس کی جانب سے مستقبل میں دائرہ بڑھانے کی صورت میں مزید اہلکار اور مقامات اس میں شامل ہو سکتے ہیں۔
پاکستان کے مختلف پولیس ادارے ڈیجیٹل نگرانی، سیف سٹی کیمروں اور الیکٹرانک ریکارڈنگ کے استعمال میں اضافہ کر رہے ہیں۔ راولپنڈی کا باڈی کیمرہ اقدام اسی رجحان کا حصہ ہے، لیکن اس کی کامیابی کا اصل پیمانہ شکایات کے حل، ریکارڈ کے درست استعمال، شہری رازداری اور پولیس احتساب کے عملی نتائج ہوں گے۔
