بیجنگ: چین کی انسانی خلائی پرواز سے متعلق ایجنسی نے اعلان کیا ہے کہ ایک پاکستانی خلا باز شینژو-24 مشن کے ذریعے چین کے تیانگونگ خلائی اسٹیشن جائے گا، جس سے پاکستان کے انسانی خلائی پروگرام میں ایک اہم سنگ میل قائم ہوگا۔ دستیاب سرکاری معلومات کے مطابق پاکستانی رکن پے لوڈ اسپیشلسٹ کے طور پر مختصر مدتی مداری پرواز میں شریک ہوگا اور تیانگونگ جانے والا پہلا غیر ملکی خلا باز ہوگا۔ مشن کی روانگی کی حتمی تاریخ چینی اعلان میں نہیں دی گئی، تاہم اسے سال کے اختتام تک متوقع قرار دیا گیا ہے۔

پاکستان اور چین نے فروری 2025 میں انسانی خلائی پرواز کے شعبے میں تعاون کا معاہدہ کیا تھا، جس کے تحت پاکستانی امیدواروں کی چین میں تربیت اور ان میں سے ایک کی تیانگونگ مشن میں شمولیت کا راستہ کھلا۔ اپریل میں محمد ذیشان علی اور خرم داؤد کو چینی خلائی پروگرام کے لیے تربیت شروع کرنے والے پاکستانی امیدواروں کے طور پر منتخب کیا گیا تھا۔ تازہ اعلان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ان دونوں میں سے کون شینژو-24 کے عملے کے ساتھ جائے گا، اس لیے کسی ایک نام کو حتمی مشن رکن قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔

چینی منصوبے کے مطابق پاکستانی پے لوڈ اسپیشلسٹ خلائی اسٹیشن پر محدود مدت کے لیے سائنسی اور مشن سے متعلق سرگرمیوں میں حصہ لے گا اور بعد میں شینژو-23 خلائی جہاز کے ذریعے واپس آئے گا۔ شینژو-23 مئی 2026 میں تیانگونگ کے ساتھ منسلک ہوا تھا۔ پاکستان کے لیے یہ پیش رفت محض علامتی نمائندگی سے آگے سائنسی تجربات، خلا سے متعلق انسانی وسائل اور مشترکہ تحقیق کی صلاحیت بڑھانے کا موقع فراہم کر سکتی ہے، اگر تربیت اور مشن کے بعد حاصل ہونے والی مہارت کو ملکی خلائی پروگرام میں مؤثر طور پر منتقل کیا جائے۔

وزیراعظم شہباز شریف اس سے قبل دونوں پاکستانی امیدواروں سے ملاقات کر کے ان کے انتخاب کو قومی اعزاز قرار دے چکے ہیں۔ منصوبہ بندی کے وفاقی وزیر احسن اقبال نے اکتوبر میں ایک تقریب کے دوران 25 نومبر کی تاریخ کا ذکر کیا تھا، تاہم تازہ چینی بیان نے روانگی کی مخصوص تاریخ کی توثیق نہیں کی۔ اس لیے موجودہ طور پر مصدقہ پیش رفت پاکستانی خلا باز کی شینژو-24 میں شمولیت ہے، جبکہ حتمی روانگی، منتخب فرد کے نام اور تفصیلی سائنسی پروگرام کے لیے مزید سرکاری اعلان درکار ہوگا۔