اسلام آباد: پاکستان کا ایک خلاباز چین کے شینژو-24 انسان بردار خلائی مشن میں شامل ہو کر چینی خلائی اسٹیشن کا سفر کرے گا۔ ایکسپریس ٹریبیون کی تازہ رپورٹ کے مطابق یہ پیش رفت دونوں ممالک کے خلائی تعاون کے پروگرام کا حصہ ہے اور اس سے پاکستان کو پہلی مرتبہ اپنے خلاباز کو چینی خلائی اسٹیشن تک بھیجنے کا موقع ملے گا۔
پاکستان اور چین کے درمیان خلائی سائنس اور ٹیکنالوجی میں تعاون کئی برسوں سے جاری ہے۔ سیٹلائٹ منصوبوں، زمینی مشاہدے اور خلائی تحقیق کے بعد انسان بردار مشن میں پاکستانی شرکت اس تعاون کا ایک نیا مرحلہ ہوگی۔ شینژو پروگرام چین کے انسان بردار خلائی پروگرام کی بنیاد ہے اور اس کے ذریعے خلاباز تیانگونگ خلائی اسٹیشن تک پہنچتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پاکستانی امیدواروں کی تربیت اور انتخاب کا عمل چین کے انسان بردار خلائی پروگرام کے متعلقہ معیار کے مطابق کیا گیا ہے۔ خلائی سفر کے لیے جسمانی صحت، تکنیکی قابلیت، ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت اور طویل تربیت بنیادی تقاضوں میں شامل ہوتے ہیں۔ حتمی مشن میں شامل پاکستانی خلاباز کو چینی عملے کے ساتھ مربوط تربیت اور مشن کی تیاری کے مراحل سے گزرنا ہوگا۔
پاکستان کے لیے اس پروگرام کی اہمیت صرف ایک علامتی خلائی پرواز تک محدود نہیں ہے۔ انسان بردار خلائی مشن میں شرکت سے پاکستانی سائنس دانوں اور انجینئروں کو خلائی طب، مائیکرو گریویٹی تحقیق، مشن آپریشنز اور جدید خلائی نظاموں کے بارے میں عملی تجربہ حاصل ہونے کی توقع ہے۔ ایسے تجربات مستقبل کے قومی خلائی منصوبوں اور سائنسی تحقیق میں استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
چین نے گزشتہ برسوں میں تیانگونگ خلائی اسٹیشن کو مستقل سائنسی پلیٹ فارم کے طور پر فعال کیا ہے، جہاں مختلف شعبوں میں تجربات کیے جاتے ہیں۔ پاکستانی خلاباز کی شرکت سے دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ سائنسی سرگرمیوں کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں، تاہم مخصوص تجربات اور مشن کی مکمل عملی تفصیلات متعلقہ خلائی اداروں کے باضابطہ اعلانات سے واضح ہوں گی۔
یہ پیش رفت پاکستان کے خلائی پروگرام کے لیے ایک اہم سنگ میل بن سکتی ہے۔ مشن کی کامیاب تکمیل کی صورت میں پاکستان ان ممالک میں شامل ہوگا جن کے شہری مدار میں قائم خلائی اسٹیشن تک پہنچ چکے ہیں۔ آئندہ مرحلے میں مشن کے شیڈول، پاکستانی خلاباز کی شناخت اور سائنسی سرگرمیوں سے متعلق مزید سرکاری تفصیلات متوقع ہیں۔
