بیجنگ: ایک پاکستانی خلا باز چین کے شینژو-24 مشن کے ذریعے تیانگونگ خلائی اسٹیشن جائے گا اور چین کے اس مداری مرکز کا پہلا غیر ملکی مہمان بنے گا۔ چینی سرکاری میڈیا نے چائنا مینڈ اسپیس ایجنسی کے حوالے سے ہفتہ 7 نومبر کو بتایا کہ پاکستانی رکن مشن میں پے لوڈ اسپیشلسٹ کی حیثیت سے شریک ہوگا۔ یہ چین کے انسان بردار خلائی پروگرام میں چینی اور غیر ملکی خلا بازوں پر مشتمل پہلا مشترکہ خلائی سفر ہوگا۔
چینی حکام نے ابھی اس پاکستانی خلا باز کا نام ظاہر نہیں کیا جسے پرواز کے لیے منتخب کیا گیا ہے، اور نہ ہی شینژو-24 کی روانگی کی حتمی تاریخ بتائی گئی ہے۔ رائٹرز کے مطابق پاکستانی پائلٹس محمد زیشان علی اور خرم داؤد کئی ماہ سے بیجنگ میں چائنا آسٹروناٹ ریسرچ اینڈ ٹریننگ سینٹر میں تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ ان دونوں میں سے ایک کو مشن کے لیے منتخب کیے جانے کی تیاری پہلے سے جاری تھی۔
چینی سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق پاکستانی خلا باز تیانگونگ پر مختصر مدت کے لیے مدار میں قیام کرے گا۔ اس کے بعد اس کی زمین پر واپسی شینژو-23 خلائی جہاز کے ذریعے متوقع ہے۔ اس انتظام کا مطلب یہ ہے کہ پاکستانی رکن شینژو-24 کے ساتھ اسٹیشن پہنچے گا لیکن اس کی واپسی پہلے سے مدار میں موجود عملے کی واپسی والی پرواز کے ساتھ ہوگی۔
پاکستان اور چین نے فروری 2025 میں انسان بردار خلائی تعاون سے متعلق معاہدہ کیا تھا، جس کے تحت پاکستانی امیدواروں کے انتخاب اور تربیت کا عمل شروع ہوا۔ امیدواروں کی تربیت میں خلائی جہاز اور اسٹیشن سے متعلق عملی صلاحیتوں کے ساتھ چینی زبان کی تربیت بھی شامل رہی ہے۔ پاکستانی خلا باز سے توقع ہے کہ وہ مدار میں سائنسی تجربات اور پے لوڈ سے متعلق ذمہ داریاں انجام دے گا، تاہم تازہ اعلان میں مخصوص تجربات کی مکمل تفصیل جاری نہیں کی گئی۔
یہ مشن پاکستان کے خلائی پروگرام کے لیے ایک نمایاں پیش رفت ہوگا کیونکہ اس سے کسی پاکستانی کی چین کے انسان بردار خلائی پروگرام میں براہ راست شرکت ممکن ہوگی۔ چین کے لیے بھی یہ علامتی طور پر اہم مرحلہ ہے: تیانگونگ خلائی اسٹیشن 2021 سے چینی خلا بازوں کی میزبانی کرتا آیا ہے، جبکہ پاکستانی رکن اس پر جانے والا پہلا غیر چینی شہری ہوگا۔
چین اپنے انسان بردار خلائی پروگرام کو مزید وسعت دے رہا ہے اور 2030 تک چاند پر انسان اتارنے کا ہدف بھی رکھتا ہے۔ پاکستان کے ساتھ شینژو-24 تعاون اسی وسیع خلائی سفارت کاری کا حصہ ہے جس کے ذریعے بیجنگ دوسرے ممالک کے ساتھ سائنسی اور خلائی شراکت داری بڑھا رہا ہے۔
مشن کے بارے میں فی الحال دو اہم تفصیلات زیر التوا ہیں: پرواز کرنے والے پاکستانی خلا باز کی باضابطہ شناخت اور لانچ کی تاریخ۔ اس لیے کسی مخصوص امیدوار کو حتمی مسافر قرار دینا ابھی قبل از وقت ہوگا۔ دستیاب سرکاری معلومات صرف یہ تصدیق کرتی ہیں کہ پاکستانی پے لوڈ اسپیشلسٹ شینژو-24 مشن کا حصہ ہوگا اور مختصر قیام کے بعد شینژو-23 کے ذریعے واپس آئے گا۔
