بیجنگ: چین نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان کا ایک خلا باز شینژو-24 مشن کے ذریعے چین کے تیانگونگ خلائی اسٹیشن جائے گا، جہاں وہ پے لوڈ اسپیشلسٹ کے طور پر سائنسی اور تکنیکی سرگرمیوں میں حصہ لے گا۔ رائٹرز اور پاکستانی ذرائع ابلاغ کی 7 نومبر کی رپورٹس کے مطابق یہ پیش رفت پاکستان اور چین کے خلائی تعاون میں ایک نمایاں مرحلہ ہے، کیونکہ پاکستانی خلا باز چینی خلائی اسٹیشن پر جانے والا پہلا غیر ملکی وزیٹر ہوگا۔
چین کی نیشنل اسپیس ایڈمنسٹریشن سے منسوب بیان میں روانگی کی حتمی تاریخ نہیں دی گئی، تاہم مشن کے سال کے اختتام تک متوقع ہونے کی اطلاع دی گئی ہے۔ پاکستانی امیدواروں کے انتخاب اور تربیت کا عمل دونوں ملکوں کے خلائی اداروں کے تعاون سے آگے بڑھا ہے۔ پے لوڈ اسپیشلسٹ کا کردار عام طور پر مشن پر موجود سائنسی آلات، تجربات اور مخصوص تحقیقی کاموں سے متعلق ہوتا ہے، اس لیے پاکستانی نمائندے کی ذمہ داری صرف علامتی شرکت تک محدود نہیں ہوگی۔
پاکستان نے حالیہ برسوں میں سیٹلائٹ، ریموٹ سینسنگ اور خلائی تحقیق کے شعبوں میں چین کے ساتھ تعاون بڑھایا ہے۔ انسانی خلائی پرواز میں پاکستانی شرکت اس تعاون کو ایک نئے درجے تک لے جاتی ہے۔ تیانگونگ چین کا مدار میں فعال خلائی اسٹیشن ہے اور بیجنگ اسے طویل مدتی سائنسی تحقیق اور بین الاقوامی تعاون کے پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
مشن سے متعلق دستیاب معلومات میں ابھی بعض عملی تفصیلات، بشمول روانگی کی قطعی تاریخ اور پاکستانی خلا باز کی مکمل ذمہ داریوں کا شیڈول، سامنے آنا باقی ہیں۔ اس لیے رپورٹ میں صرف ان نکات کو حتمی قرار دیا جا رہا ہے جن کی تصدیق چینی اعلان اور معتبر خبر رساں ذرائع سے ہوئی ہے۔ مشن کی کامیاب تکمیل پاکستان کے انسانی خلائی پروگرام کے لیے تاریخی سنگ میل ہوگی اور مستقبل میں تربیت، خلائی سائنس اور مشترکہ تجربات کے مزید مواقع پیدا کر سکتی ہے۔
