لاہور: پاکستان کے بڑے برآمدی صنعتی گروپ انٹرلوپ نے ڈیری پروسیسنگ کے شعبے میں تقریباً 5 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کا منصوبہ پیش کیا ہے۔ کمپنی سے وابستہ مسدق ذوالقرنین کے مطابق یہ سرمایہ کاری آئی ایل فوڈز لمیٹڈ کے ذریعے کی جائے گی اور اس کی مالیت پاکستانی روپے میں تقریباً 15 ارب روپے بنتی ہے۔ منصوبے کے تحت جدید ڈیری پروسیسنگ سہولت قائم کی جائے گی جس میں مختلف اقسام کے پنیر، مکھن اور وہے پروٹین کنسنٹریٹ WPC80 تیار کیا جائے گا۔
منصوبے کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ پیداوار صرف مقامی مارکیٹ تک محدود رکھنے کے بجائے اس کا ایک حصہ برآمد کرنے کا بھی ارادہ ہے۔ اس حکمت عملی سے پاکستان کی ویلیو ایڈڈ غذائی مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ ہوسکتا ہے، بشرطیکہ منصوبہ طے شدہ پیداواری اور برآمدی اہداف حاصل کرے۔ وہے پروٹین کنسنٹریٹ خوراک اور غذائیت کی صنعت میں نسبتاً زیادہ قدر رکھنے والی مصنوعات میں شمار ہوتا ہے اور مقامی تیاری درآمدی متبادل کے امکانات بھی پیدا کرسکتی ہے۔
انٹرلوپ بنیادی طور پر ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات کے حوالے سے معروف ہے، اس لیے ڈیری پروسیسنگ میں یہ سرمایہ کاری گروپ کی کاروباری سرگرمیوں کو متنوع بنانے کی سمت ایک نمایاں قدم ہے۔ پاکستان میں دودھ کی بڑی پیداوار کے باوجود منظم کولڈ چین، معیاری پروسیسنگ، مصنوعات کی یکساں کوالٹی اور برآمدی معیار پر پورا اترنے کی صلاحیت ڈیری ویلیو چین کے اہم چیلنجز رہے ہیں۔ جدید پلانٹ ان شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے کی ایک مثال بن سکتا ہے۔
کمپنی کی جانب سے سامنے آنے والی معلومات میں پلانٹ کی حتمی پیداواری گنجائش، تعمیر مکمل ہونے کی تاریخ یا برآمدی منڈیوں کی مکمل فہرست بیان نہیں کی گئی، اس لیے ان پہلوؤں پر کسی حتمی نتیجے سے قبل مزید سرکاری یا کمپنی تفصیلات درکار ہوں گی۔ تاہم اعلان کردہ سرمایہ کاری کا حجم نجی شعبے کی جانب سے پاکستان کی فوڈ پروسیسنگ صنعت میں ایک قابل ذکر نئی سرمایہ کاری ہے۔
اگر منصوبہ مکمل طور پر فعال ہوتا ہے تو اس سے دودھ کی مقامی سپلائی چین، صنعتی پروسیسنگ، ہنرمند روزگار اور ویلیو ایڈڈ برآمدات کے لیے نئی طلب پیدا ہوسکتی ہے۔ اس کے ساتھ معیار، خوراک کی حفاظت، مسلسل خام مال کی فراہمی اور بین الاقوامی سرٹیفکیشن وہ عوامل ہوں گے جو منصوبے کی برآمدی کامیابی میں اہم کردار ادا کریں گے۔
