اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے آئندہ گندم فصل کے لیے امدادی قیمت 4,500 روپے فی من مقرر کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ حکومتی فیصلے کا مقصد کاشتکاروں کو بوائی سے قبل قیمت کے بارے میں واضح اشارہ دینا اور ملک میں گندم کی پیداوار بڑھانے کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب زرعی شعبہ پیداواری لاگت، موسمی دباؤ اور منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ جیسے مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔

وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں گندم کی آئندہ فصل، دستیابی اور کسانوں کو مناسب معاوضہ دینے سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔ امدادی قیمت کا اعلان بوائی کے فیصلوں پر اثرانداز ہوسکتا ہے کیونکہ کاشتکار عموماً بیج، کھاد، ڈیزل، آبپاشی اور دیگر اخراجات کو متوقع فروخت قیمت کے مقابل دیکھتے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ نئی قیمت کسانوں کو گندم کا زیرکاشت رقبہ اور پیداوار برقرار رکھنے یا بڑھانے کی ترغیب دے گی۔

پاکستان میں گندم بنیادی غذائی فصل ہے اور اس کی پیداوار میں کمی براہ راست آٹے کی دستیابی، قیمتوں اور درآمدی ضرورت پر اثر ڈال سکتی ہے۔ اسی لیے حکومت کے لیے ایک جانب صارفین کے لیے آٹے کی قابل برداشت قیمت اور دوسری جانب کسانوں کے لیے قابل قبول آمدن کے درمیان توازن اہم رہتا ہے۔ امدادی قیمت اسی پالیسی فریم ورک کا حصہ ہے، تاہم اس کے عملی اثرات خریداری کے طریقہ کار، صوبائی پالیسیوں اور مارکیٹ نرخوں پر بھی منحصر ہوں گے۔

حالیہ برسوں میں سرکاری گندم خریداری، ذخائر اور نجی شعبے کے کردار سے متعلق پالیسی میں تبدیلیاں زیر بحث رہی ہیں۔ نئی امدادی قیمت کا حقیقی فائدہ کسان تک کس حد تک پہنچتا ہے، اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ فصل کی کٹائی کے وقت مارکیٹ میں طلب اور خریداری کا نظام کس طرح کام کرتا ہے۔ حکومت کو ذخیرہ اندوزی، غیر معمولی قیمت اتار چڑھاؤ اور سپلائی میں رکاوٹوں کی نگرانی بھی کرنا ہوگی۔

کاشتکار تنظیمیں عموماً امدادی قیمت کے ساتھ کھاد، بجلی، ڈیزل اور زرعی مداخل کی لاگت کو بھی اہم قرار دیتی ہیں۔ اس لیے 4,500 روپے فی من کی مقررہ قیمت کے نتائج کا درست اندازہ بوائی کے رقبے، موسم، فی ایکڑ پیداوار اور فصل آنے کے وقت مارکیٹ کی صورت حال سامنے آنے کے بعد ہی لگایا جاسکے گا۔ فی الحال یہ منظوری آئندہ فصل کے لیے وفاقی حکومت کی قیمت پالیسی کا واضح اشارہ ہے۔