اسلام آباد: عالمی بینک نے اپنی تازہ پاکستان ڈیولپمنٹ اپ ڈیٹ، ’’اٹیننگ اسکیپ ویلوسٹی‘‘ میں کہا ہے کہ اگر پاکستان ساختی اصلاحات کی رفتار تیز اور ان پر مستقل عمل درآمد کرے تو 2050 تک آمدن کو موجودہ سطح کے مقابلے میں تقریباً تین گنا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق حالیہ معاشی استحکام ایک اہم بنیاد فراہم کرتا ہے، لیکن پائیدار ترقی کے لیے سرمایہ کاری، پیداواری صلاحیت اور روزگار پیدا کرنے والے نجی شعبے کو مضبوط کرنا ہوگا۔

عالمی بینک کا مؤقف ہے کہ صرف قلیل مدتی استحکام کافی نہیں ہوگا۔ پاکستان کو ٹیکس نظام، توانائی، تجارت، کاروباری ضوابط، انسانی سرمائے اور سرکاری اداروں کی کارکردگی میں ایسی اصلاحات درکار ہیں جو نجی سرمایہ کاری کے لیے لاگت اور غیر یقینی کم کریں۔ کم سرمایہ کاری اور کم پیداواری صلاحیت طویل عرصے سے بلند اور مسلسل معاشی نمو کی راہ میں رکاوٹ رہے ہیں۔

رپورٹ میں روزگار کے مسئلے کو بھی مرکزی اہمیت دی گئی ہے۔ پاکستان کی نوجوان آبادی کے لیے ہر سال بڑی تعداد میں نئی ملازمتیں درکار ہوتی ہیں، اس لیے ترقی کا ماڈل ایسا ہونا چاہیے جو زیادہ پیداواری کاروبار، برآمدات اور خواتین سمیت زیادہ افراد کی افرادی قوت میں شمولیت کی گنجائش پیدا کرے۔ انسانی سرمائے میں تعلیم، صحت اور مہارتوں کی بہتری کے بغیر بلند شرح نمو کو طویل مدت تک برقرار رکھنا مشکل ہوگا۔

عالمی بینک کی تین گنا آمدن کی بات ایک ممکنہ اصلاحاتی منظرنامہ ہے، خودکار پیش گوئی یا ضمانت نہیں۔ نتیجہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ پاکستان پالیسی تسلسل، مالیاتی نظم، توانائی شعبے کی پائیداری اور مسابقتی کاروباری ماحول میں کتنی پیش رفت کرتا ہے۔ بیرونی جھٹکے، موسمیاتی خطرات اور عالمی تجارت میں تبدیلیاں بھی طویل مدتی نتائج پر اثر ڈال سکتی ہیں۔

حکومت کے لیے اگلا مرحلہ استحکام سے سرمایہ کاری پر مبنی نمو کی طرف منتقلی ہے۔ اگر نجی شعبے کو سرمایہ لگانے، برآمدات بڑھانے اور نئی فرمیں قائم کرنے کے لیے قابل پیش گوئی ماحول ملتا ہے تو روزگار اور آمدن میں تیز اضافہ ممکن ہوسکتا ہے۔ تاہم اصلاحات کے فوائد کو وسیع آبادی تک پہنچانے کے لیے سماجی تحفظ، بنیادی خدمات اور علاقائی عدم مساوات پر بھی بیک وقت توجہ دینا ہوگی۔