کراچی: کراچی کی ایک جوڈیشل مجسٹریٹ عدالت نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے مقدمے میں صحافی اقرار الحسن کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ عدالت نے انہیں 26 اکتوبر تک عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا، جبکہ مقدمے میں لگائے گئے الزامات کی قانونی حیثیت اور ذمہ داری کا حتمی تعین ابھی عدالتی کارروائی میں ہونا باقی ہے۔
این سی سی آئی اے نے اقرار الحسن کے خلاف ایف آئی آر نمبر 101/2026 درج کی ہے۔ مقدمے میں پاکستان پینل کوڈ اور پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ کی مختلف دفعات شامل کی گئی ہیں۔ استغاثہ کا الزام ہے کہ ایک یوٹیوب پروگرام میں ایسے بیانات نشر کیے گئے جو بعض ریاستی اداروں اور شخصیات سے متعلق تھے اور جنہیں ایجنسی نے قابل اعتراض قرار دیا۔ یہ الزامات استغاثہ کے دعوے ہیں اور عدالت نے ابھی ان کے درست یا غلط ہونے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا۔
این سی سی آئی اے کے تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم سے ڈیجیٹل آلات برآمد کیے گئے ہیں اور ان کے فرانزک تجزیے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔ ایجنسی کے مطابق ڈیجیٹل مواد کی مقدار تقریباً 1,145 گیگابائٹ ہے۔ عدالت نے جسمانی ریمانڈ کی مزید درخواست منظور نہیں کی اور ملزم کو عدالتی تحویل میں بھیج دیا۔
دفاعی وکلا نے ضمانت کی درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ مقدمہ آزادی اظہار اور صحافتی سرگرمی سے متعلق ہے اور لگائی گئی دفعات کے اطلاق پر قانونی سوالات موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملزم تحقیقات میں تعاون کے لیے تیار ہے۔ استغاثہ نے ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل شواہد کی جانچ جاری ہے اور تفتیش مکمل ہونے سے پہلے رہائی تحقیقات کو متاثر کر سکتی ہے۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد ضمانت کی درخواست مسترد کی۔ اس فیصلے کا مطلب مقدمے میں جرم ثابت ہونا نہیں؛ ضمانت کا مرحلہ مقدمے کے حتمی ٹرائل سے الگ ہوتا ہے۔ ملزم کو قانون کے تحت اعلیٰ عدالت سے رجوع کرنے کا حق حاصل ہے۔
سائبر کرائم قوانین کے تحت صحافیوں اور سوشل میڈیا مواد سے متعلق مقدمات پاکستان میں آزادی اظہار، ڈیجیٹل حقوق اور ریاستی ضابطہ کاری کے درمیان توازن پر بحث کا سبب بنتے رہے ہیں۔ موجودہ مقدمے میں اصل الزامات، ڈیجیٹل شواہد اور قانونی دفعات کی تشریح کا فیصلہ آئندہ عدالتی کارروائی میں ہوگا۔
