
سائبر کرائم مقدمہ: کراچی کی عدالت نے اقرار الحسن کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی
جوڈیشل مجسٹریٹ نے این سی سی آئی اے کے مقدمے میں صحافی اقرار الحسن کی ضمانت مسترد کرتے ہوئے انہیں 26 اکتوبر تک عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا۔
22 اکتوبر، 2026کراچی کی جوڈیشل مجسٹریٹ عدالت نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے ذریعے درج ایف آئی آر نمبر 101/2026 میں صحافی اقرار الحسن کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی اور انہیں 26 اکتوبر تک عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا۔ استغاثہ نے مقدمے میں پاکستان پینل کوڈ اور پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ کی دفعات عائد کی ہیں اور عدالت میں بتایا کہ ملزم کے ڈیجیٹل آلات ضبط کر کے تقریباً 1,145 گیگابائٹ ڈیٹا کے فرانزک تجزیے کی ضرورت ہے؛ استغاثہ نے تفتیش مکمل ہونے تک رہائی کی مخالفت کی۔ دفاعی وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ معاملہ آزادیٔ اظہار اور صحافتی سرگرمی سے متعلق ہے اور ملزم تحقیقات میں تعاون کے لیے تیار ہے۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد ضمانت مسترد کی مگر اس فیصلے کو جرم کے ثبوت کے مترادف قرار نہیں دیا گیا؛ اصل الزامات اور ڈیجیٹل شواہد کی قانونی حیثیت حتمی عدالتی کارروائی میں طے ہو گی۔ یہ معاملہ پاکستان میں سائبر کرائم قوانین، اظہارِ رائے اور ڈیجیٹل حقوق کے توازن سے متعلق جاری بحث کے پسِ منظر میں درج ہے۔