تہران: ایرانی حکام نے کہا ہے کہ اسٹارلنک انٹرنیٹ سروس سے متعلق آلات کے خلاف چار ماہ کے دوران کارروائیوں میں 997 ڈیوائسز ضبط اور 163 افراد گرفتار کیے گئے۔ ایکسپریس اردو کی 23 اگست کی رپورٹ نے یہ اعداد ایرانی پولیس کے اقتصادی سکیورٹی سربراہ حسین رحیمی سے منسوب کیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق کارروائیوں کا دورانیہ جولائی کے اختتام تک کے چار ماہ پر مشتمل تھا۔ حکام نے اسٹارلنک ڈیوائسز کے ساتھ دیگر متعلقہ سامان اور ان کی نقل و حمل میں مبینہ طور پر استعمال ہونے والی 15 گاڑیاں بھی قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا۔ زیادہ تر آلات کے ایران کی مغربی اور شمال مغربی سرحدوں، بشمول آذربائیجان اور عراق کے کردستان ریجن سے آنے کی بات کہی گئی۔
ایرانی حکام نے کارروائی کی مکمل قانونی بنیاد، گرفتار افراد پر عائد الگ الگ دفعات، عدالتوں میں مقدمات کی موجودہ حیثیت یا ضبط شدہ تمام آلات کی تکنیکی جانچ کی تفصیل جاری نہیں کی۔ اسی وجہ سے گرفتاری کو جرم ثابت ہونے کے برابر نہیں سمجھا جا سکتا۔ اس خبر میں تمام الزامات اور اعداد متعلقہ ایرانی حکام کے بیان کے طور پر پیش کیے جا رہے ہیں۔
اسٹارلنک زمین کے نچلے مدار میں موجود مصنوعی سیاروں کے ذریعے انٹرنیٹ مہیا کرنے والا نظام ہے، جس کے استعمال کے لیے صارف ٹرمینل اور مخصوص مواصلاتی سامان درکار ہوتا ہے۔ مختلف ملک اس قسم کے آلات کے درآمدی، فریکوئنسی اور لائسنس ضوابط الگ طریقے سے نافذ کرتے ہیں۔ دستیاب رپورٹ میں ایران کے اندر سروس کی قانونی حیثیت یا کسی نئے ضابطے کی مکمل عبارت شامل نہیں۔
یہ پیش رفت ٹیکنالوجی تک رسائی، سرحدی اسمگلنگ کے دعووں اور ریاستی انٹرنیٹ ضوابط کے باہمی تعلق کو نمایاں کرتی ہے۔ آئندہ عدالتی احکامات، الزامات کی تفصیل یا رہائی سے متعلق معلومات سامنے آئیں تو انہیں موجودہ گرفتاری کے دعوے سے الگ مرحلے کے طور پر دیکھنا ہوگا۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




