اسلام آباد: انسداد دہشت گردی عدالت نے وکلا ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ضمانت کی درخواستیں اس بنیاد پر واپس کر دی ہیں کہ ان کے ساتھ مطلوبہ دستخط شدہ وکالت نامے موجود نہیں تھے۔ یہ درخواستیں کوہسار تھانے میں درج احتجاج سے متعلق مقدمے میں دائر کی گئی تھیں۔ عدالت نے ساتھ ہی اڈیالہ جیل حکام کے خلاف ایک الگ درخواست پر نوٹس جاری کیے ہیں، جس میں الزام ہے کہ قیدی وکلا کو وکالت ناموں پر دستخط کی سہولت نہیں دی گئی۔
ڈان کے مطابق انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے متعلقہ حکام کو وکالت ناموں سے متعلق درخواست کا جواب دینے کی ہدایت کی۔ ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کے وکلا نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے اپنے مؤکلوں سے مطلوبہ دستخط حاصل کرنے کی کوشش کی، لیکن جیل انتظامیہ نے مبینہ طور پر ضروری سہولت فراہم نہیں کی۔ جیل حکام کا تفصیلی موقف عدالت میں نوٹس کے جواب کے بعد سامنے آنا ہے۔
وکیل زینب جنجوعہ نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے جمعہ اور ہفتہ کو اس مقصد کے لیے کوشش کی اور اڈیالہ جیل کے حکام سے بھی ملاقات کی۔ ان کے مطابق حکام نے کہا کہ وکالت ناموں کو سرکاری طریقہ کار کے تحت پراسیس کرنا ہوگا۔ دفاعی وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ زیر حراست افراد کو قانونی نمائندگی حاصل کرنے کا بنیادی حق حاصل ہے۔
جج نے سوال کیا کہ کیا وکالت ناموں کی تصدیق ہو چکی ہے اور واضح کیا کہ مطلوبہ دستخط کے بغیر ضمانت کی درخواست قبول نہیں کی جا سکتی۔ عدالت نے اس معاملے کے حل کے لیے جیل حکام سے وضاحت طلب کرنے کا فیصلہ کیا۔ ایمان مزاری کی والدہ ڈاکٹر شیریں مزاری نے عدالت میں الزام عائد کیا کہ دونوں وکلا کو گرفتاری کے دوران جسمانی تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ الزام ان کا بیان ہے اور اس بارے میں کوئی حتمی عدالتی نتیجہ اس سماعت میں سامنے نہیں آیا۔
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو اس سے قبل سوشل میڈیا پوسٹس سے متعلق مقدمے میں مختلف دفعات کے تحت سزا سنائی گئی تھی۔ گزشتہ ہفتے سپریم کورٹ نے ان کی سزائیں معطل کرتے ہوئے ضمانت پر رہائی کا حکم دیا تھا، جو اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیلوں کے حتمی فیصلے تک مؤثر ہونا تھا۔ تاہم چند گھنٹوں بعد اسلام آباد پولیس نے دونوں کو ایک دوسرے مقدمے میں دوبارہ گرفتار کر لیا اور انسداد دہشت گردی عدالت نے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔
نیا مقدمہ کوہسار تھانے میں 22 مارچ گزشتہ سال درج کیا گیا تھا۔ ایف آئی آر میں دونوں پر حکومت مخالف نعرے لگانے اور سڑکیں بند کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ رپورٹ کے مطابق مقدمہ درج ہوتے وقت انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ شامل نہیں تھی۔ یہ الزامات ابھی عدالتی عمل کے تابع ہیں اور ملزمان کو قانونی دفاع کا حق حاصل ہے۔
تازہ سماعت میں عدالت نے ضمانت کے میرٹ پر فیصلہ نہیں کیا بلکہ درخواستوں کو تکنیکی دستاویزی کمی، یعنی دستخط شدہ وکالت ناموں کی عدم موجودگی، کی وجہ سے واپس کیا۔ اس لیے اگلا مرحلہ مطلوبہ قانونی دستاویزات مکمل ہونے اور جیل حکام کے جواب کے بعد سامنے آئے گا۔

