اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت کی ضلعی انتظامیہ نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں شیشہ کیفوں سے متعلق مقدمے کی سماعت کے بعد شہر بھر میں شیشہ کی فراہمی پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان نواز میمن کے مطابق پابندی فوری طور پر نافذ ہو گی اور تاحکم ثانی برقرار رہے گی۔ اس کا اطلاق ان مراکز پر بھی ہو گا جن کے پاس پہلے سے نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ، یعنی این او سی، موجود ہے۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق پابندی انڈور اور آؤٹ ڈور دونوں طرح کی شیشہ سروس پر لاگو ہے۔ تمام اسسٹنٹ کمشنرز کو اپنے متعلقہ علاقوں میں روزانہ معائنہ کرنے اور حکم کی خلاف ورزی کرنے والے مراکز کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی ہدایت دی گئی ہے۔ انتظامیہ نے خبردار کیا ہے کہ خلاف ورزی کی صورت میں کیفے سیل کیا جا سکتا ہے اور مالک یا آپریٹر کے خلاف مقدمہ بھی درج کیا جائے گا۔

یہ اقدام اسلام آباد ہائیکورٹ کی کارروائی کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ عدالت نے ضلعی انتظامیہ کو شیشہ کیفوں کے لیے باقاعدہ قواعد و ضوابط مرتب کرنے کے لیے ایک ماہ کی مہلت دی اور کیس کی مزید سماعت بھی ایک ماہ کے لیے ملتوی کر دی۔ دستیاب عدالتی رپورٹنگ کے مطابق انتظامیہ نے عدالت کے سامنے صحت اور حفاظت سے متعلق خدشات کا ذکر کیا، جن میں تمباکو نوشی کے اثرات، کوئلے اور متعلقہ مواد کی محفوظ ذخیرہ کاری اور آگ سے بچاؤ کے تقاضے شامل ہیں۔

اس سے پہلے بعض مراکز این او سی یا عبوری اجازت کی بنیاد پر کام کر رہے تھے، تاہم تازہ انتظامی حکم نے اس عبوری صورت حال کو فی الحال ختم کر دیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ نئی پابندی اجازت نامہ رکھنے والے اور بغیر اجازت چلنے والے دونوں اقسام کے مراکز پر یکساں طور پر نافذ ہو گی۔

عدالت نے مستقل ضابطہ وضع کرنے کی ذمہ داری انتظامیہ پر ڈالی ہے، اس لیے موجودہ پابندی کو حتمی قانونی فریم ورک کے بجائے تاحکم ثانی انتظامی اقدام سمجھا جائے گا۔ آئندہ ایک ماہ میں تیار ہونے والے قواعد سے یہ طے ہونے کی توقع ہے کہ شیشہ کیفوں کے لائسنس، صحت و سلامتی، نگرانی اور نفاذ کے لیے کیا شرائط مقرر کی جاتی ہیں۔ فی الحال انتظامیہ کا اعلان واضح ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں کسی بھی مقام پر شیشہ کیفے کی سروس جاری رکھنے کی اجازت نہیں ہو گی۔