اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاسپورٹ رولز 2021 کے رول 22(2)(b) کے ایک حصے کو غیر آئینی اور پاسپورٹس ایکٹ 1974 سے تجاوز قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ شہری کی بیرون ملک نقل و حرکت پر پابندی محض کسی سرکاری ادارے یا ایجنسی کی سفارش کی بنیاد پر، مجاز اتھارٹی اور قانونی طریقہ کار کی صراحت کے بغیر، عائد نہیں کی جا سکتی۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق جسٹس راجہ انعام امین منہاس نے تفصیلی فیصلے میں رول 22(2)(b) کے دوسرے حصے کو پاسپورٹس ایکٹ 1974 کے ساتھ ساتھ آئین کے آرٹیکلز 4، 9، 10 اے اور 15 سے متصادم قرار دیا۔ عدالت نے کہا کہ زیرِ بحث شق قانونی اثر نہیں رکھتی۔

یہ فیصلہ معین الدین نامی درخواست گزار کی درخواست پر جاری کیا گیا۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق درخواست گزار کو 18 دسمبر 2025 کو اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر سعودی عرب عمرہ کے لیے روانگی کے وقت آف لوڈ کیا گیا تھا۔ بعد ازاں اس کے نام کی پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شمولیت بھی عدالتی جانچ کا موضوع بنی۔

عدالت نے متعلقہ حکام کی جانب سے سابقہ عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ ہونے پر ناراضی ظاہر کی اور درخواست گزار کی درخواست ایک ہفتے میں وجوہات پر مبنی واضح حکم کے ذریعے نمٹانے کی ہدایت کی۔ فیصلے میں 26 جنوری 2026 کے متعلقہ ادارے کے حکم کو بھی کالعدم قرار دیا گیا جبکہ 24 دسمبر 2024 کو درخواست گزار کا نام پی سی ایل میں شامل کرنے کے اقدام کو قانونی اختیار کے بغیر قرار دیا گیا۔

ہائیکورٹ نے حکام کو ہدایت کی کہ مصدقہ عدالتی فیصلے کی وصولی کے 15 دن کے اندر درخواست گزار کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نکالا جائے اور متنازع اندراج کی بنیاد پر اس کے قانونی بیرون ملک سفر میں مداخلت نہ کی جائے۔

تاہم عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر قانون کے تحت کوئی کارروائی بنتی ہو تو مجاز اتھارٹی مقررہ قانونی طریقہ کار اختیار کرتے ہوئے اقدام کر سکتی ہے۔ فیصلے کی نقول سیکریٹری داخلہ، ڈائریکٹر جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹس اور ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کو عمل درآمد کے لیے بھیجنے کی ہدایت کی گئی۔

فیصلے کی اہمیت شہریوں کی آزادیٔ نقل و حرکت اور انتظامی اختیارات کے قانونی استعمال سے متعلق ہے۔ عدالت نے پابندی کے اختیار کو مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے اس امر پر زور دیا کہ ایسا اقدام واضح قانونی اختیار، مناسب طریقہ کار اور آئینی ضمانتوں کے مطابق ہونا چاہیے۔