اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنی انتظامی سطح پر اہم تبدیلیاں کرتے ہوئے رجسٹرار یار محمد ولانہ اور ممبر انسپیکشن ٹیم تنویر اکبر کی خدمات ختم کردی ہیں، جبکہ دونوں عہدوں پر قائم مقام تقرریاں کردی گئی ہیں۔ عدالتی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشنز کے مطابق یہ فیصلے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس سردار سرفراز ڈوگر کی منظوری سے کیے گئے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق ایڈیشنل رجسٹرار رائے محمد خان کو قائم مقام رجسٹرار مقرر کیا گیا ہے۔ اسی طرح کامران بشارت مفتی کو قائم مقام ممبر انسپیکشن ٹیم کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ یہ تقرریاں عدالت کے انتظامی امور کو جاری رکھنے کے لیے کی گئی ہیں اور دستیاب نوٹیفکیشن میں انہیں قائم مقام ذمہ داریاں قرار دیا گیا ہے۔

رجسٹرار یار محمد ولانہ کے بارے میں جاری حکم میں کہا گیا کہ ان کی خدمات عوامی مفاد میں فوری طور پر ختم کی جا رہی ہیں۔ ان کے معاہدے کی شرائط کے مطابق ایک ماہ کے نوٹس کے بدلے ایک ماہ کی تنخواہ ادا کی جائے گی۔ ممبر انسپیکشن ٹیم تنویر اکبر کے لیے بھی اسی نوعیت کا انتظام کیا گیا ہے اور انہیں بھی نوٹس کی مدت کے عوض ایک ماہ کی تنخواہ ملے گی۔

عدالتی نوٹیفکیشنز میں چیف جسٹس کی جانب سے دونوں سبکدوش ہونے والے حکام کی دورانِ تعیناتی خدمات اور کوششوں کو سراہا گیا۔ دستیاب سرکاری احکامات انتظامی تبدیلیوں اور معاہداتی خدمات کے خاتمے کی تصدیق کرتے ہیں؛ ان میں کسی بدعنوانی، تادیبی کارروائی یا فوجداری الزام کا ذکر نہیں، اس لیے ان تبدیلیوں کو کسی ایسے غیر مصدقہ سبب سے جوڑنا درست نہیں ہوگا۔

ہائی کورٹ کا رجسٹرار عدالتی انتظامیہ، مقدمات سے متعلق دفتری نظام اور مختلف انتظامی شعبوں کے درمیان رابطے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، جبکہ انسپیکشن ٹیم عدالتی انتظامی نگرانی سے متعلق ذمہ داریاں انجام دیتی ہے۔ قائم مقام افسران کی تعیناتی کے بعد ان شعبوں کا روزمرہ کام جاری رہے گا، جبکہ مستقل تقرریوں یا مزید انتظامی تبدیلیوں کے بارے میں کوئی فیصلہ الگ باضابطہ حکم کی صورت میں سامنے آئے گا۔