اسلام آباد میں وفاقی حکومت نے دارالحکومت کی پولیس کے لیے 50 برقی گاڑیوں پر مشتمل نئی فلیٹ حوالے کر دی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ایک تقریب میں گاڑیوں کی چابیاں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور انسپکٹر جنرل اسلام آباد پولیس سید علی ناصر رضوی کے سپرد کیں۔ سرکاری بریفنگ کے مطابق یہ گاڑیاں نئی قائم کی گئی کیپیٹل پٹرول فورس کے زیر استعمال آئیں گی، جسے وفاقی دارالحکومت میں گشت، فوری ردعمل اور جدید پولیسنگ کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے تشکیل دیا گیا ہے۔

تقریب میں وفاقی وزرا اور متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی ترجیح ہے اور اسلام آباد پولیس کو جدید ٹیکنالوجی، سازوسامان اور ضروری وسائل فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے دارالحکومت کی پولیس کو دوسرے شہروں کے لیے ایک مؤثر نمونہ بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

پولیس حکام نے وزیراعظم کو بتایا کہ کیپیٹل پٹرول فورس میں مجموعی طور پر 200 اہلکار شامل ہوں گے۔ ہر پٹرول یونٹ میں ایک مرد اور ایک خاتون پولیس افسر شامل کرنے کا منصوبہ ہے، جبکہ مختلف علاقوں میں فوری رسائی کے لیے موٹر سائیکل سوار اہلکار بھی فورس کا حصہ ہوں گے۔ اہلکاروں کو باڈی کیمرے فراہم کیے جائیں گے تاکہ کارروائیوں کی نگرانی، شفافیت اور جوابدہی بہتر بنائی جا سکے۔

بریفنگ کے مطابق فورس کے لیے فراہم کی گئی تمام 50 گاڑیاں مکمل طور پر بجلی سے چلیں گی۔ حکام کا تخمینہ ہے کہ اس تبدیلی سے ماہانہ تقریباً 3 کروڑ 40 لاکھ روپے کے ایندھن کی بچت ہو سکتی ہے اور ایندھن کی بچت کے ذریعے ہر گاڑی کی لاگت تقریباً ساڑھے دس ماہ میں پوری ہونے کا امکان ہے۔ یہ اعداد و شمار سرکاری بریفنگ پر مبنی ہیں اور عملی بچت گاڑیوں کے استعمال، بجلی کی قیمت اور آپریشنل حالات سے متاثر ہو سکتی ہے۔

حکومت نے اس اقدام کو محفوظ، اسمارٹ اور ماحول دوست دارالحکومت کے تصور سے جوڑا ہے۔ برقی گاڑیوں کے استعمال سے روایتی ایندھن پر انحصار کم ہونے کے ساتھ شہری پولیسنگ میں اخراجات اور ماحولیاتی اثرات گھٹانے کا ہدف بھی رکھا گیا ہے۔ وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو جدید پولیسنگ کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھنے کی ہدایت کی۔