اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ہاؤسنگ و ورکس نے فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی (ایف جی ای ایچ اے) کو بھارہ کہو میں طویل عرصے سے زیر التوا گرین انکلیو-I ہاؤسنگ منصوبے کا ترقیاتی کام اگلے 18 ماہ میں مکمل کرانے کی ہدایت کی ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق سینیٹر ناصر محمود کی زیر صدارت 8 ستمبر کو ہونے والے اجلاس میں 2009 میں شروع کیے گئے منصوبے کی تاخیر، لاگت میں اضافے اور الاٹیوں کو درپیش مشکلات کا جائزہ لیا گیا۔

ایف جی ای ایچ اے نے کمیٹی کو بتایا کہ جوائنٹ وینچر پارٹنر کے ساتھ مذاکرات مکمل ہو چکے ہیں، تاہم لاگت میں اضافے سے متعلق معاملے پر اتھارٹی کے بورڈ کی منظوری ابھی درکار ہے۔ اجلاس میں جوائنٹ وینچر پارٹنر نے گرین انکلیو-I کو 18 ماہ کے اندر مکمل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ سیکریٹری ہاؤسنگ اور منصوبے کے شراکت دار کی یقین دہانی کے بعد کمیٹی کے چیئرمین نے اسی مدت میں تکمیل کی ہدایت جاری کی۔ یہ مدت فی الحال کمیٹی کی ہدایت اور شراکت دار کی یقین دہانی ہے؛ منصوبے کی عملی تکمیل آئندہ پیش رفت سے ہی ثابت ہوگی۔

قومی احتساب بیورو نے کمیٹی کو بتایا کہ منصوبے سے متعلق ایک انکوائری سپریم کورٹ کی 2018 کی کلیئرنس کے بعد ختم کر دی گئی تھی۔ اس کے باوجود منصوبہ کئی سال مکمل نہ ہو سکا، جس سے لاگت بڑھی اور الاٹیوں کو مشکلات کا سامنا رہا۔ کمیٹی نے تاخیر پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے ایف جی ای ایچ اے کے جوائنٹ وینچر پارٹنر کی کارکردگی اور معاہداتی ذمہ داریاں پوری کرنے کی صلاحیت پر سوال اٹھایا۔ اجلاس میں یہ نکتہ بھی سامنے آیا کہ تاخیر کے باوجود اتھارٹی نے مبینہ طور پر جرمانے کی شق استعمال نہیں کی۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ جاری تعمیراتی کام کا تیسرے فریق سے جائزہ کرایا گیا اور جاری کی گئی رقم تقریباً 52 فیصد مکمل کام کے تناسب سے تھی۔ زمین ایف جی ای ایچ اے کو منتقل ہو چکی تھی، لیکن ترقیاتی اور تعمیراتی سرگرمیاں طویل عرصے تک تعطل کا شکار رہیں۔ اجلاس کے بعد بعض الاٹیوں نے کمیٹی کی مداخلت اور 18 ماہ کی یقین دہانی کو مثبت پیش رفت قرار دیا۔

اسی اجلاس میں قریبی اسکائی گارڈنز ہاؤسنگ اسکیم میں شامل بعض شاملات اور جنگلاتی زمین سے متعلق تنازع بھی زیر بحث آیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ تقریباً 2,600 کنال متنازع زمین پر ترقیاتی کام روک دیا گیا ہے اور حتمی تعین تک وہاں کام نہیں ہوگا۔ نیب نے بتایا کہ موضع مینگل سے متعلق معاملے میں انکوائری دوبارہ کھولی گئی ہے، جبکہ زمین کی قانونی نوعیت کا سوال سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کے سامنے زیر التوا ہے۔ کمیٹی کے چیئرمین نے نیب کو معاملے کی غیر جانبدار، شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی ہدایت کی۔

گرین انکلیو کے حوالے سے موجودہ قابل تصدیق پیش رفت منصوبے کی تکمیل کا اعلان نہیں بلکہ سینیٹ کمیٹی کی 18 ماہ کی ہدایت، جوائنٹ وینچر پارٹنر کی یقین دہانی اور ایف جی ای ایچ اے بورڈ سے لاگت میں اضافے کی منظوری کے انتظار پر مشتمل ہے۔ آئندہ مہینوں میں ترقیاتی کام کی رفتار اور بورڈ کے فیصلے سے معلوم ہوگا کہ طویل عرصے سے زیر التوا منصوبہ مقررہ مدت میں مکمل ہو پاتا ہے یا نہیں۔