اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد پولیس کے جدید کمانڈ، کنٹرول، کمیونیکیشن اور کوآرڈینیشن مرکز کا افتتاح کردیا ہے۔ حکام کے مطابق نئے مرکز کا مقصد پولیس کی کمان، نگرانی، مختلف یونٹس کے درمیان رابطے اور ہنگامی صورتحال میں فوری فیصلہ سازی کو ایک مرکزی نظام کے تحت بہتر بنانا ہے۔

وزیر داخلہ نے افتتاح کے موقع پر کہا کہ جدید مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی پر مبنی نظام پولیس کی کارکردگی، ردعمل کے وقت اور فیلڈ فورس کی نگرانی کو زیادہ مؤثر بنانے میں مدد دے گا۔ مرکز کو اس انداز میں ترتیب دیا گیا ہے کہ انسپکٹر جنرل اسلام آباد ایک مقام سے پولیس کے اہم آپریشنل نظام اور شہر میں امن و امان کی صورتحال کی نگرانی کرسکیں۔

حکام کے مطابق سیف سٹی، پولیس آپریشنز، فیلڈ فورس مانیٹرنگ اور ایمرجنسی رسپانس سے متعلق نظام مرکزی کمانڈ اینڈ کنٹرول پلیٹ فارم سے منسلک کیے جائیں گے۔ کسی واقعے یا سکیورٹی صورتحال میں دستیاب معلومات کو ایک جگہ جمع کرنے سے متعلقہ کمانڈ کو صورتحال دیکھنے، احکامات جاری کرنے اور مختلف یونٹس کے درمیان رابطہ قائم کرنے میں سہولت ملنے کی توقع ہے۔

افتتاح کے دوران وزیر داخلہ نے مرکز کے مختلف حصوں کا معائنہ کیا اور انہیں جدید مانیٹرنگ، سیف سٹی انضمام، پولیس آپریشنز اور اے آئی پر مبنی ٹیکنالوجی کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مرکزی نظام سے فیلڈ میں تعینات اہلکاروں کی کارکردگی کی نگرانی اور ادارہ جاتی احتساب بھی مضبوط کیا جاسکے گا۔

نئے مرکز کے بارے میں پیش کیے گئے فوائد حکومتی اور پولیس حکام کے دعوے ہیں۔ اس مرحلے پر ردعمل کے وقت میں کمی، جرائم کی شرح پر اثر یا نگرانی کی کارکردگی سے متعلق کوئی بعد از نفاذ آزادانہ اعداد و شمار دستیاب نہیں، اس لیے نظام کی عملی افادیت کا اندازہ آنے والے عرصے میں کارکردگی کے قابل پیمائش اشاریوں سے ہوگا۔

ٹیکنالوجی پر مبنی پولیسنگ میں ڈیٹا کے استعمال، نگرانی کے اختیارات اور نظام کی سائبر سکیورٹی بھی اہم انتظامی پہلو ہوتے ہیں۔ دستیاب افتتاحی رپورٹ میں ان معاملات کے تفصیلی پروٹوکول بیان نہیں کیے گئے۔ حکام نے مرکز کا بنیادی مقصد شہریوں کے تحفظ، پولیس کی کارکردگی بہتر بنانے اور اسلام آباد میں امن و امان کی نگرانی کو مؤثر بنانا بتایا ہے۔

مرکزی کمانڈ پلیٹ فارم کے مکمل استعمال کے بعد یہ دیکھا جاسکے گا کہ سیف سٹی اور روایتی پولیس آپریشنز کے درمیان معلومات کے تبادلے، ہنگامی ردعمل اور فیلڈ مانیٹرنگ میں کتنی عملی بہتری آتی ہے۔