لاہور: نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے دو افراد کو گرفتار کیا ہے جن پر ’منی نادرا‘ کے نام سے غیر مجاز ویب سائٹ چلانے اور شہریوں کا حساس ذاتی ڈیٹا غیر قانونی طور پر حاصل، محفوظ اور فروخت کرنے کا الزام ہے۔ سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی اور ڈان کے مطابق گرفتار افراد کی شناخت محمد ارسلان اور علی رضا کے نام سے ہوئی ہے۔
این سی سی آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران تقریباً تین ٹیرا بائٹ ڈیجیٹل مواد اور دو موبائل فون قبضے میں لیے گئے۔ ایجنسی کے مطابق ملزمان کے پاس ایک کروڑ سے زیادہ شہریوں سے متعلق معلومات تک رسائی تھی۔ برآمد شدہ مواد میں مبینہ طور پر سم کی ملکیت اور رجسٹریشن کا ریکارڈ، کال ڈیٹیل ریکارڈز، سم ڈیٹا بیس، صارفین کی لوکیشن سے متعلق معلومات، خاندانی شجرے اور مختلف سرکاری اداروں سے منسلک حساس تفصیلات شامل تھیں۔
حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ ملزمان نے ’منی نادرا‘ کے نام سے ویب سائٹ قائم کر رکھی تھی جس کے ذریعے نادرا سے متعلق معلومات غیر مجاز طور پر فراہم کی جاتی تھیں۔ این سی سی آئی اے نے یہ بھی کہا کہ ملزمان کو ’کھوجی‘ نامی ایک پلیٹ فارم تک رسائی حاصل تھی اور وہ شہریوں کے ڈیٹا کی مبینہ خرید و فروخت میں ملوث تھے۔ یہ تمام نکات تفتیشی ادارے کے الزامات ہیں؛ عدالت کی جانب سے ملزمان کے خلاف جرم ثابت ہونے کا کوئی حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
اے پی پی کے مطابق قبضے میں لیے گئے موبائل فونز اور ڈیجیٹل مواد کو فرانزک جانچ کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔ تفتیش کا مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ ڈیٹا کس ذریعے سے حاصل ہوا، اسے کس انداز میں ذخیرہ اور منتقل کیا گیا اور آیا اس مبینہ نیٹ ورک میں مزید افراد بھی شامل تھے۔ حکام نے مقدمہ درج کرکے مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
واقعہ پاکستان میں شہریوں کی ڈیجیٹل پرائیویسی اور سرکاری و نجی ڈیٹا کی حفاظت سے متعلق سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے، تاہم موجودہ مرحلے پر یہ واضح نہیں کہ قبضے میں لیا گیا تمام ڈیٹا کس اصل نظام یا ادارے سے نکالا گیا تھا۔ این سی سی آئی اے کی فرانزک تحقیقات سے ہی ڈیٹا کے ماخذ، ممکنہ متاثرین اور مبینہ فروخت کے دائرے کے بارے میں مزید تصدیق شدہ معلومات سامنے آنے کی توقع ہے۔
این سی سی آئی اے نے کارروائی کو حساس ذاتی معلومات کی غیر قانونی تجارت کے خلاف آپریشن قرار دیا ہے۔ خبر کی تصدیق ڈان کے علاوہ سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان نے بھی این سی سی آئی اے حکام کے حوالے سے کی ہے۔




