اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری پولیس نے وفاقی دارالحکومت کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر سرچ اور کومبنگ آپریشنز کرتے ہوئے 277 افراد کی شناخت اور کوائف کی جانچ کی ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کی 5 ستمبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق کارروائیوں کے دوران 16 افراد کو مزید تصدیق کے لیے متعلقہ پولیس اسٹیشنوں منتقل کیا گیا۔ رپورٹ میں انہیں کسی جرم میں باضابطہ گرفتار یا نامزد ملزم قرار نہیں دیا گیا، اس لیے یہ اقدام شناخت اور پس منظر کی جانچ تک محدود سمجھا جائے گا۔
پولیس کے ایک اہلکار کے مطابق سرچ ٹیموں کو کارروائی سے پہلے تفصیلی بریفنگ دی گئی اور خواتین پولیس اہلکاروں نے بھی آپریشن میں حصہ لیا۔ مختلف علاقوں میں مجموعی طور پر 83 گھروں، 58 دکانوں اور 21 ہوٹلوں کی جانچ کی گئی۔ رہائشی اور تجارتی مقامات کی تلاشی یا کوائف کی پڑتال کے دوران متعلقہ قانونی اختیار، شہریوں کی رازداری اور خواتین کی موجودگی والے مقامات پر مناسب طریقۂ کار کی پابندی ضروری ہوتی ہے۔
آپریشنز میں 109 موٹر سائیکلوں اور 56 گاڑیوں کے کاغذات یا شناختی تفصیلات بھی چیک کی گئیں۔ پولیس نے 15 موٹر سائیکلیں مزید تصدیق کے لیے تھانوں منتقل کیں۔ کسی گاڑی یا موٹر سائیکل کو تصدیق کے لیے تحویل میں لینا بذاتِ خود چوری شدہ ہونے یا کسی جرم میں استعمال ہونے کا حتمی ثبوت نہیں۔ ملکیت، رجسٹریشن، انجن و چیسز نمبر اور پولیس ریکارڈ کی پڑتال کے بعد اس کی قانونی حیثیت واضح ہوگی۔
پولیس نے کارروائیوں کو اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں جاری حفاظتی اور جانچ اقدامات کا حصہ قرار دیا ہے۔ ایسے سرچ آپریشنز کا عمومی مقصد مشتبہ نقل و حرکت، غیر تصدیق شدہ رہائش، غیر قانونی اسلحہ یا مطلوب افراد سے متعلق معلومات کی جانچ ہوسکتا ہے، لیکن موجودہ رپورٹ نے کسی مخصوص دہشت گردی خطرے، واقعے یا پہلے سے درج مقدمے کو ان کارروائیوں کی وجہ نہیں بتایا۔ اس لیے آپریشن کو کسی غیر اعلان شدہ فوری خطرے سے جوڑنا درست نہیں ہوگا۔
پولیس نے شہریوں سے چیکنگ کے دوران اہلکاروں کے ساتھ تعاون اور کسی مشتبہ سرگرمی کی فوری اطلاع دینے کی اپیل کی۔ شہری تعاون کے ساتھ قانون نافذ کرنے والے ادارے کی ذمہ داری ہے کہ شناختی جانچ شفاف، محدود مدت میں اور بلا امتیاز ہو، اور جس شخص کے خلاف کوئی قانونی بنیاد نہ ملے اسے غیر ضروری حراست یا ہراسانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ رپورٹ میں 16 افراد کی تصدیق مکمل ہونے، انہیں رہا کرنے یا کسی کے خلاف مقدمہ درج ہونے کی بعد کی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔
سرچ آپریشن کے جاری کردہ اعداد کارروائی کا حجم بتاتے ہیں، مگر مؤثر نتیجے کا اندازہ صرف چیک کیے گئے لوگوں اور مقامات کی تعداد سے نہیں لگایا جاسکتا۔ اس کے لیے یہ جاننا ضروری ہوگا کہ کتنے مطلوب افراد ملے، کوئی غیر قانونی شے برآمد ہوئی یا نہیں، کتنے کیسز قانونی کارروائی تک پہنچے اور عام شہریوں کی شکایات کا کیا طریقہ رکھا گیا۔ دستیاب رپورٹ میں کسی اسلحے، منشیات یا دیگر ممنوعہ شے کی برآمدگی کا ذکر نہیں۔
خواتین پولیس اہلکاروں کی شرکت گھروں اور خواتین کی جانچ کے دوران مناسب طریقۂ کار کے لیے اہم ہے۔ اسی طرح ہوٹلوں اور کرایہ داروں کے ریکارڈ کی پڑتال میں درست شناختی معلومات اور مقامی قواعد پر عمل ضروری ہوتا ہے، تاہم ہر غیر مکمل اندراج کو فوجداری جرم سمجھنے کے بجائے متعلقہ قانون اور حالات کے مطابق جانچنا چاہیے۔
فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت 277 افراد، 83 گھروں، 58 دکانوں، 21 ہوٹلوں، 109 موٹر سائیکلوں اور 56 گاڑیوں کی جانچ، اور 16 افراد و 15 موٹر سائیکلوں کو مزید تصدیق کے لیے تھانوں منتقل کرنا ہے۔ کسی شخص کے خلاف جرم، گرفتاری یا فردِ جرم کا حتمی اعلان اس رپورٹ میں موجود نہیں۔




