اسلام آباد اور راولپنڈی میں مجوزہ سیاسی احتجاج اور مارچوں کے پیش نظر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بڑے پیمانے پر سکیورٹی انتظامات شروع کر دیے ہیں۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد اور اٹک کے مختلف مقامات پر 2 ہزار سے زائد کنٹینرز تعینات کیے جا چکے ہیں، جبکہ ریڈ زون اور دارالحکومت کے اہم داخلی راستوں پر اضافی رکاوٹیں قائم کرنے کی تیاری بھی کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اسلام آباد پولیس نے پاکستان تحریک انصاف، جماعت اسلامی اور کسان اتحاد کی جانب سے متوقع احتجاجی سرگرمیوں سے نمٹنے کے اخراجات کے لیے 82 کروڑ 70 لاکھ روپے مانگے ہیں۔ یہ رقم کنٹینرز کے کرایوں، پولیس اہلکاروں کی رہائش و خوراک، نقل و حمل اور انسدادِ ہنگامہ آرائی کے سامان، جن میں آنسو گیس اور ربڑ کی گولیاں شامل ہیں، پر خرچ کیے جانے کی تجویز ہے۔

پولیس حکام سے منسوب اندازوں کے مطابق اسلام آباد میں 20 ہزار سے 25 ہزار مظاہرین کے جمع ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ یہ تعداد حتمی یا تصدیق شدہ شرکت نہیں بلکہ سکیورٹی منصوبہ بندی کے لیے پولیس کا تخمینہ ہے۔ حکام کے مطابق پی ٹی آئی کا لانگ مارچ 27 ستمبر کو ملک کے مختلف حصوں سے شروع ہونے کی توقع ہے اور سکیورٹی تیاریوں کو اس سے پہلے مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مختلف ٹھیکیداروں سے 1,550 کنٹینرز فراہم کرنے کا انتظام کیا گیا، جن میں سے 350 ریڈ زون کی بندش کے لیے درکار ہیں۔ مزید کنٹینرز بڑے داخلی راستوں، شاہراہوں اور حساس علاقوں پر رکھنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ اسلام آباد پولیس نے پنجاب پولیس سے 16 ہزار اہلکار اور 4 ہزار اینٹی رائٹ کٹس جبکہ سندھ پولیس سے 2 ہزار اہلکار اور 3 ہزار اینٹی رائٹ کٹس بھی طلب کی ہیں۔

دوسری جانب، پولیس نفری کی عارضی رہائش کے لیے سرکاری عمارتوں، تعلیمی اداروں اور دیگر مقامات کو استعمال کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق کم از کم دو درجن تعلیمی ادارے بند کیے گئے کیونکہ ان میں باہر سے آنے والے پولیس اہلکاروں کے قیام کا انتظام کیا گیا ہے۔ راولپنڈی کے ریڈ زون میں بھی اضافی پولیس پکٹس قائم کی گئی ہیں اور اہم سرکاری عمارتوں کی حفاظت کے لیے الگ سکیورٹی پلان تیار کیا گیا ہے۔

ان انتظامات کے باعث دونوں شہروں میں آمدورفت متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ تاہم مظاہروں کے راستوں، ممکنہ بندشوں اور سکیورٹی پابندیوں سے متعلق حتمی فیصلے سرکاری احکامات کے مطابق کیے جائیں گے۔