اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت کی ضلعی انتظامیہ نے شہر میں ضابطہ فوجداری کی دفعہ 144 دو ماہ کے لیے نافذ کر دی ہے، جس کے تحت عوامی مقامات پر پانچ یا زیادہ افراد کے اجتماعات، جلوسوں، ریلیوں اور مظاہروں پر پابندی عائد ہوگی۔ ڈان کے مطابق حکم نامہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ڈاکٹر انعم فاطمہ نے 18 ستمبر کو جاری کیا تھا اور یہ فوری طور پر نافذ العمل ہے۔
حکم نامے کے مطابق پابندی اسلام آباد ضلع کی ریونیو حدود میں نافذ ہے اور اس میں ریڈ زون بھی شامل ہے۔ انتظامیہ نے کہا کہ بعض گروہ ایسے اجتماعات کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں جن سے امن و امان متاثر ہونے کا خدشہ ہے، اس لیے جان و مال کے تحفظ اور ممکنہ ہنگامہ آرائی روکنے کے لیے پیشگی پابندیاں ضروری سمجھی گئیں۔ یہ انتظامیہ کا سرکاری جواز ہے؛ کسی مخصوص جماعت یا فرد کے خلاف عدالتی جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں۔
اسلام آباد انتظامیہ نے الگ بیان میں شہریوں سے کہا کہ وہ کسی غیر قانونی سرگرمی یا ممنوع اجتماع میں شریک نہ ہوں اور سیکیورٹی اداروں سے تعاون کریں۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ شہر میں اجتماعات پر Peaceful Assembly and Public Order Act 2024 کے تحت بھی ضابطے لاگو ہوتے ہیں اور خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان تحریک انصاف نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے، جس کا بنیادی مطالبہ پارٹی کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی ہے۔ کسان اتحاد کی جانب سے بھی دارالحکومت میں مارچ اور دھرنے کے اعلانات رپورٹ ہوئے ہیں۔
ڈان کے مطابق پنجاب میں بھی الگ طور پر 13 دن کے لیے دفعہ 144 نافذ کی گئی، جبکہ پنجاب حکومت نے راولپنڈی، اٹک، جہلم اور میانوالی میں رینجرز کی تعیناتی کے لیے وفاقی حکومت سے درخواست کی ہے۔ راولپنڈی اور اٹک کے بعض مقامات پر 27 ستمبر کو موبائل یا انٹرنیٹ خدمات محدود کرنے کی درخواست بھی رپورٹ ہوئی ہے۔
دفعہ 144 ایک انتظامی اقدام ہے جس کے تحت مخصوص مدت اور علاقے میں اجتماعات اور بعض سرگرمیوں پر پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں۔ اسلام آباد کے موجودہ حکم کی مدت دو ماہ بتائی گئی ہے، تاہم اس دوران کسی بھی تبدیلی، عدالتی حکم یا انتظامی نظرثانی کی صورت میں پابندیوں کی عملی نوعیت تبدیل ہو سکتی ہے۔
