اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے وفاقی دارالحکومت میں دفعہ 144 دو ماہ کے لیے نافذ کر دی ہے، جس کے تحت عوامی مقامات پر پانچ یا اس سے زیادہ افراد کے اجتماعات، جلوس، ریلیاں اور مظاہرے ممنوع ہوں گے۔ ڈان کے مطابق حکم نامہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ڈاکٹر انعم فاطمہ نے 18 ستمبر کو جاری کیا تھا اور اس کا اطلاق فوری طور پر کیا گیا۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ پابندی اسلام آباد ضلع کی ریونیو حدود، بشمول ریڈ زون، میں نافذ رہے گی۔ انتظامیہ کے مطابق بعض گروہوں کی جانب سے اجتماعات اور احتجاجی سرگرمیوں کے اعلانات کے تناظر میں امن و امان برقرار رکھنے، شہریوں کی جان و مال کے تحفظ اور ممکنہ ہنگامہ آرائی کو روکنے کے لیے یہ اقدام ضروری سمجھا گیا۔
ضلعی انتظامیہ نے الگ بیان میں شہریوں کو خبردار کیا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے دوران کسی غیر قانونی اجتماع یا سرگرمی میں شرکت نہ کریں۔ انتظامیہ کے مطابق شہر میں اجتماعات پر پابندی امن عامہ سے متعلق موجودہ قانون کے تحت بھی نافذ ہے اور خلاف ورزی پر قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان تحریک انصاف نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان کر رکھا ہے، جبکہ کسان اتحاد کی جانب سے بھی احتجاجی سرگرمیوں کی اطلاعات موجود ہیں۔ ڈان کے مطابق پنجاب میں بھی الگ حکم کے تحت محدود مدت کے لیے دفعہ 144 نافذ کی گئی ہے اور بعض اضلاع میں رینجرز کی تعیناتی کی درخواست کی گئی ہے۔
دفعہ 144 کا نفاذ انتظامی اور حفاظتی اقدام ہے؛ یہ کسی مخصوص فرد یا جماعت کے خلاف عدالتی فیصلہ نہیں۔ احتجاج، اجتماع اور سیاسی سرگرمیوں سے متعلق قانونی حقوق اور پابندیاں متعلقہ قوانین، عدالتی احکامات اور انتظامی ضوابط کے تابع رہتی ہیں۔ حکومت اور سیاسی جماعتوں کے درمیان اس اقدام کی ضرورت اور دائرہ کار پر مختلف مؤقف ہو سکتے ہیں۔
اسلام آباد میں سکیورٹی انتظامات بھی سخت کیے جا رہے ہیں، کیونکہ حکام آئندہ دنوں میں ممکنہ احتجاجی مارچوں اور دھرنوں کے پیش نظر ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ضلعی انتظامیہ اور ٹریفک پولیس کی تازہ ہدایات پر نظر رکھیں، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں سڑکوں کی بندش یا نقل و حرکت پر عارضی پابندیاں لگ سکتی ہیں۔

